30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
گناہگار می شود ونمازخوداوخالی از ثواب رود وہذا معنی قولہم کرہ لہ ذلك ویکرہ لہ التقدمواماثانی پس تابع آں وجہ شرعی است کہ درآنکس حاصل وایناں رابروجہ حق برکراہت حامل است کما عددناہ بعضہآںوجہ حق اگر نماز موجب کراہت تحریم است کالفسق والبدعۃ وغیرھما نمازنیز مکروہ تحریمی باشد ورنہ مجردوتنزیہی کما فی العبد و نظرائہ الا تری انھم یصرحون بکراھۃ امامۃ ھؤلاء تنزیھا ویرسلون ذلك ارسالا ولایقیدونہ بتقدمھم برضی القوم بل یعللونہ بان فیہ تنفیرالجماعۃ وانما النفرۃ تنشؤعن کراھتھم ذلك فدل ان الصلاۃ لاتکرہ الا تنزیھا وان کان التقدم مکروھا لہ تحریما لانھم کارھون ولوان التنزیہ کان مقیدا برضاھم حتی لو کرھواکرھت الصلاۃ ایضا تحریما لکانت کراھتھم التی نشأت عن وجہ شرعی ایضا عائدۃ علیھم بالوبال حیث وقعتھم فی ارتکاب ماٰثم لم یکن لولم تکن وھوکما تری و انماالعود علیھم فی کراھۃ لاعن مستند صحیح کماعلمت۔بالجملہ موجب کراہت دوگونہ است یکے ذاتی کہ خوددرآنکس وجہے باشد کہ شرعًا امامت اومطلقًا یادرجماعت حاضرہ ممنوع یا خلاف |
ہوں تو اس کا امام ہونا مکروہ نہیں کیونکہ جاہل اور فاسق عالم اور صالح افراد کوناپسندکرتے ہیں الخ۔اقول: (میں کہتا ہوں) تحقیق مقام یہ ہے کہ یہاں دو٢ چیزیں ہیں،ایك یہ کہ کوئی شخص خود بخود لوگوں کی نفرت کے باوجود آگے بڑھے اور لوگوں کو اپنی اقتدا میں نماز ادا کرنے پر مجبور کرے دوسری چیز ایسے امام کے پیچھے نماز کا معاملہ ہے،علماء نے صورت ِمذکور میں جو مکروہ تحریمی کاحکم لگایا ہے اس کا اطلاق پہلے کی طرف لوٹ رہا ہے یعنی اس شخص کے لئے ایسا کرنا جائز نہیں ،اگر اس نے ایسا کیا تو گناہگار ہوگا اور اسکی نماز ثواب سے خالی رہے گی فقہا کے ذکر کردہ الفاظ"کرہ لہ ذلك ویکرہ لہ التقدم"کایہی معنی ہے دوسری چیز کہ اس شرعی وجہ کے تابع ہے جواس آدمی میں حاصل ہے اور لوگوں کو کراہت پر بطریق حق راغب کرتی ہے جیسا کہ ہم نے اس میں بعض کا بیان کیا ہے اگر یہ وجہ نماز میں کراہت ِ تحریمی کا موجب ہو مثلًا فسق اور بدعت وغیرہ تو نماز بھی مکروہ ِ تحریمی ہوگی ورنہ مکروہ تنزیہی ہے۔،جیساغلام اور اس کے ہم مثل میں تنزیہی ہے ۔کیا آپ نہیں دیکھتے کہ فقہا نے ان لوگوں کی امامت کے مکروہ تنزیہی ہونے پر تصریح کی ہے اور فقہا نے اس میں ارسال واطلاق سے کام لیا اوران کے تقدم کو قوم کی رضا کے ساتھ مقید نہیں کیا بلکہ اس کی علّت یہ بیان کی اس میں جماعت کو متنفر کرنا لازم آتا ہے اورنفرت ان کے ناپسند کرنے کی وجہ سے پیدا ہوتی ہے اب اس بات کو واضح کردیا کہ نماز صرف مکروہ تنزیہی ہوگی اگر چہ اس کا امام بننا مکروہ تحریمی تھا کیونکہ لوگ اسے نا پسند کرتے تھے ،اگر مکروہ تنزیہی |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع