30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
ممنوع ومکروہ تحریمی ست ،درمتن محقق غزی وشرح مدقق علائی ست ولوام قوما وھم لہ کارھون ان الکرھۃ لفساد فیہ اولانھم احق بالامامۃ منہ کرہ لہ ذلك تحریما لحدیث ابوداؤد ولایقبل اﷲصلٰوۃ من تقدم قوما وھم لہ کارھون وان ھواحق لا والکرھۃ علیہم [1]درمراقی الفلاح علامہ شرنبلالی از کتاب التجنیس والمزید للامام صاحب الہدایہ ست لو ام قوماوھم لہ کارھون فھو علی ثلثہ اوجہ ان کانت الکراھۃ لفساد فیہ اوکانوااحق بالامامۃ منہ یکرہ وان کان ھو احق بھا منھم ولافساد فیہ ومع ھذا یکرھونہ لایکرہ لہ التقدم لان الجاہل والفاسق یکرہ العالم والصالح[2] اقول: تحقیق مقام آنست کہ اینجادوچیزست یکے فعل آنکس کہ بخودی خود بناگواری قوم پیش رفت وایشاں رامکروہانہ براقتدائے خودداشت دوم نماز راپس اوعلماء کہ درصورت مذکورہ حکم بکراہت تحریم فرمودہ اندبراطلاق خودش ناظر بہ اول ست یعنی آنکس را ایں چنیں کردن روانیست اگر میکند
|
زیادہ لائق اور حقدار ہے ایسی صورت میں جس شخص کو امام بنانا قوم مکروہ جانے اس شخص کو امام بننا ممنوع اور مکروہ تحریمی ہے۔محقق غزی کے متن اورشرح مدقق علائی میں ہے اگر کسی شخص نے قوم کی امامت کی حالانکہ وہ لوگ اسے ناپسند کرتے ہوں تو اگرلوگوں کی نفرت امام کے اندر کسی خرابی کی بنا پر ہو یا وہ لوگ بہ نسبت امام کے امامت کے زیادہ حقدار ہوں تو ایسی صورت میں اس شخص کا امام ہونا مکروہ تحریمی ہے اس کی دلیل حدیثِ ابوداؤد ہے جس میں فرمایا ہے:"اﷲ تعالٰی اس شخص کی نماز قبول نہیں فرماتا جولوگوں کا امام بنا حالانکہ لوگ اسے ناپسند کرتے تھے"۔ اور اگر وہ امام ہی امامت کا زیادہ حق رکھتا ہو تو اس پر کراہت نہیں بلکہ لوگوں کا نفرت کرنا مکروہ ہوگا ۔علامہ شرنبلالی نے مراقی الفلاح میں صاحب ہدایہ کی کتاب التجنیس والمزید کے حوالے سے ذکر کیا ہے اگر کسی شخص نے قوم کی امامت کی حالانکہ وہ لوگ اسے ناپسند کرتے ہوں تو اس کی تین صورتیں ہیں:(١) اگر کراہت خود امام میںفساد کی وجہ سے ہو(٢) یا دوسرے لوگ اس سے امامت کے زیادہ حقدار اور لائق ہوں تو اس کا امام بننا مکروہ ہے(٣) اور اگر وہ امام ہی دوسروں سے زیادہ لائقِ امامت ہو اور بذاتِ خود اس میں کوئی فساد بھی نہ ہو اس کے باوجود لوگ اسے ناپسند کرتے |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع