30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
تنزیھیۃ کما فی البحر[1]در حاشیہ علّامہ سید احمد طحطاوی برمراقی الفلاح ازشرح علامہ سید محمد ازہری ازعلامہ سید احمد حموی است کراھۃ الاقتداء بالعبدوماعطف علیہ تنزیھیۃ ان وجد غیرھم والافلا[2] اھ باوصف ایں تصریحات جلیلہ بکراہت تحریم جائے زدن چنانکہ از دوملایان گنگوہی و غازی پوری برخلاف رشد امامت سرزدہ باطل محض است واصلے نداردو کانھما اغتراباطلاق الکراھۃ فی الھدایۃ وغیرھا جاھلین بما صرح بہ الشراح فی خصوص المسألۃ وغیرھا من ان حمل المطلق علی المنع غیرکلیی بل کثیرا مایطلقون والمراد خصوص التنزیہ وربما یطلقون والمقصود الاعم اعنی مایشتمل النوعین الا تری انھم یسردون مکروھات الصلاۃ سردا ویدخلون الکل تحت قولھم کرہ وفیھا من کلا النوعین ولذاقال فی الدر المختار ھذہ تعم التنزیھیۃ التی مرجعھا خلاف الاولی فالفارق |
نے کی، حاشیہ درر وغررللعلامہ شرنبلالی میں ہے کہ ولد زنا کی امامت مکروہ ہے۔ میں کہتا ہوں اس سے کرہت تنزیہی مراد ہے جیسا کہ بحر میں ہے،مراقی الفلاح کے حاشیہ میں علامہ سید احمد طحطاوی نے شرح علامہ سید محمد ازہری سے اور انہوں نےعلامہ سید احمد حموی کے حوالے سے لکھا کہ غلام اور اسکے دیگر معطوفات کی اقتداء کرنا مکروہ تنزیہی ہے بشرطیکہ ان کے علاوہ کوئی دوسرا لائقِ امت موجود ہو ورنہ مکروہ تنزیہی بھی نہیں اھ۔ان واضح تصریحات کے باوجود کراہت تحریم کے ساتھ فتوٰی جڑ دینا مناسب نہیں ہے جیسا کہ دو٢ مُلّا حضرات گنگوہی اور غازی پوری سے درست امامت کے خلاف جو بیان سرزدہُواوُہ باطل محض ہے اس کی کوئی اصل نہیں،گویا انہوں نے ہدایہ وغیرہ میں کراہت کے اطلاق سے دھوکا کھایا اور خصوصًا اس مسئلہ اور اس جیسے دیگر مسائل کے تحت شارحین کی ان تصریحات سے جاہل رہے کہ مطلق کا منع پر محمول کرنا کُلی نہیں بلکہ اکثر اوقات مطلقًا کراہت ذکر کرتے اور مراد کراہت تنزیہی ہوتی ہے بہت دفعہ کراہت کو مطلقًا ذکر کرتے ہیں اور اس سے مقصود تحریمی اور تنزیہی دونوں کا عموم ہوتا ہے کیا آپ نہیں دیکھتے کہ فقہاء جب مکروہاتِ نماز بیان کرتے ہیں تو تمام کو وہ لفظ"کرہ" کے عنوان کے تحت لاتے ہیں |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع