30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
(٤) امامت امام حی اولٰی بود اگرچہ غیرش درمسجد افضل است لمافی العلمگیریۃ دخل مسجدامن ھواولی بالامامۃ من امام المسجد فامام المحلۃ اولٰی ١[1] وفی المنیۃ :لو دخل فی المسجد من ھواولی بالامامۃ فامام المحلۃ [2] اولی ھکذا حکم الکتاب والیہ المرجع والماٰب واﷲ اعلم بالصواب۔المستخرج المذنب ابونعیم محمد نقی عفی عنہ اسلام آبادی المجیب المصیب فقیر محمد امانت اﷲ غازی پوری ۔ الجواب صحیح بندہ رشید احمد عفی عنہ اصاب من اجاب محمد قادر بخش سہسرامی عفی عنہ-صح من اجاب حرر الفقیرابوالبرکات غازیپوری ۔مافیہ حق، اماالدین عفی عنہ۔ |
محلہ کے مقرر امام کو امام بنانا اولٰی ہے اگرچہ کوئی دوسرا شخص افضل موجود ہو جیسا کہ عالمگیری میں ہے ایك ایسا شخص مسجد میں داخل ہُواجو محلہ کے امام سے افضل ہے تو محلہ کے امام ہی کو امام بنانا اولٰی ہے، ۔ اور منیہ میں ہے اگر مسجد میں ایسا شخص آیا جو امام مقرر سے افضل ہو تو محلے کا امام ہی بہتر ہوگا،کتاب کا حکم بھی یہی ہے اور یہی مرجع اور جائے پناہ ہے واﷲ اعلم بالصواب المستخرج المذنب ابونعیم محمد نقی عفی عنہ اسلام آبادی المجیب المصیب فقیرمحمد امانت اﷲ غازی پوری ۔ الجواب صحیح بندہ رشید احمد عفی عنہ اصاب من اجاب محمدقادر بخش سہسرامی عفی عنہ ۔صح من اجاب حررالفقیر ابو البرکات غازیپوری۔اس میں جوکچھ ہے وہ حق ہے۔امام الدین عفی عنہ۔ |
الجواب:
|
اولٰی بامامت کسے است کہ مسائل نماز وطہارت داناتر است درتنویر است الاحق بالامامۃ الاعلم باحکام الصلٰوۃ [3] در دُرمختار است بشرط اجتنابہ للفواحش الظاھرۃ [4]۔در ردالمحتار ازکافی وغیرہ است الاعلم بالسنۃ اولی ان یطعن علیہ فی دینہ [5]۔ |
امامت کےلئے وہ شخص اورلائق اور بہتر ہے جومسائلِ نماز وطہارت میں زیادہ آگاہی رکھتا ہو،تنویر میں ہے امامت کا زیادہ حقدار وُہ ہے جو احکام نماز سے زیادہ آگاہ ہو۔ درمختار میں بشرطیکہ وہ ظاہری گناہوں سے بچنے والا ہو۔ردالمحتار میں کافی کے حوالے سے ہے سنت (یعنی طریقہ نماز) سے زیادہ آگاہی رکھنے والا شخص امامت کے لئے بہتر ہے بشرطیکہ اس کے دین پر کوئی طعن نہ کرتا ہو(ت) |
[1] فتاوٰی ہندیہ الفصل الثانی فی بیان من ہواحق بالامامۃ مطبوعہ نورانی کتب خانہ پشاور ١/٨٣
[2] منیہ: یہ عبارت سعیِ بسیار کے باوجود مشہور منیۃ المصلی سے نہ مل سکی ،معلوم ہوتا ہے اس سے کوئی اور منیہ مراد ہے جو مجھے دستیاب نہیں۔نذیر احمد سعیدی
[3] در مختار باب الامامۃ مطبوعہ مجتبائی دہلی ١/٨٢
[4] در مختار باب الامامۃ مطبوعہ مجتبائی دہلی ١/٨٢
[5] ردالمحتار باب الامامۃ مطبوعہ مصطفی البابی مصر ١/٤١٢
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع