30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
اس لئے کہ اس کی تقدیم برائے امامت مکروہ تحریمی ہے کیونکہ وُہ امورِ دینیہ میں لاپروائی برتتا ہے اور نماز کے لوازمات کی ادائیگی میں تساہل سے کام لیتاہے ممکن ہے وہ نماز کی بعض شرائط ادا نہ کرے(یعنی چھوڑ دے)یا ایسا عمل کردے جو نماز کے منافی ہو،بلکہ ایسا کرنا اس کے فسق کے پیشِ نظر اغلب ہے(ت) |
تقدیمہ کراھۃ تحریم لعدم اعتنائہ باموردینہ وتساھلہ فی الاتیان بلوازمہ فلا یبعد منہ الاخلال ببعض شروط الصلاۃ وفعل ماینا فیھا بل ھوالغالب بالنظر الی فسقہ ١[1]۔ |
اور اگر وُہ لوگوں میں عام طور پر زانی مشہور ہو جب بھی اس کے امام بنانے سے احتراز چاہئے کہ اس صورت میں لوگ اس کی امامت سے نفرت کریں گے یہ امر باعث تقلیل جماعت ہوگا کہ مقاصد شرع کے خلاف ہے،
|
کماکرھوا امامۃ ولدالزنا لاجل ذلك وان لم یکن الاثم منہ۔ |
جیسا کہ فقہاء نے اسی حکمت کے پیشِ نظر ولد زناکی امامت کو مکروہ قرار دیا ہے اگر چہ گناہ اس کی (اپنی ذات کی ) طرف سے نہیں ہوا۔(ت)واﷲ تعالٰی اعلم |
مسئلہ نمبر ٦٠٦: ازگھورکھپور محلّہ شاہ معروف مکان مولوی محمد مسعود العاقیۃ محمد عبدالقیوم صاحب مرحوم
٢٧ ربیع الاول شریف ١٣١٥ھ: بہرے کی امامت جائز ہے یا نہیں؟ بینوا توجروا
الجواب:
عدمِ جوازکی کوئی وجہ نہیں حیث لامانع ،ہاں غیر بہرا کہ مرجحات راجیحات امامت میں بہرے سے کم نہ ہو افضل و اولٰی ہے کہ نماز میں جس طرح حفظ طہارت بدن وثوب ومصلی وتصحیح جہت قبلہ کے لئے حاسہ بصر کی حاجت ہوتی ہے جس کے سبب بینا کو اندھے بلکہ ضعیف البصر پر ترجیح دی گئی ،
|
فی الدریکرہ امامۃ الاعمٰی و نحوہ الاعشی نھر[2] ۔ فی ردالمحتارھوسیئ البصر لیلا ونھارا |
درمختار میں ہے نابینے کی امامت مکروہ ہے، اسی طرح اعشٰی (ضعیف البصر) کی بھی،نھر۔ ردالمحتار میں اعشٰی کا معنٰی را ت اور دن کو کم دیکھنے والا لکھے ہیں۔ |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع