30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
فی سننہ والحاکم فی المستدرك عن ابی رمثۃ رضی اﷲ تعالٰی عنہ قال صلیت ھذہ الصلٰوۃ اومثل ھذہ الصلٰوۃمع النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم وکان ابوبکر وعمر یقومان فی الصف المقدم عن یمینہ ۔ و کان رجل قد شھد التکبیرۃ الاولی من الصلاۃ یشفع فوثب الیہ عمر فاخذ بمنکبہ فھزہ ثم قال اجلس فانہ لم یھلك اھل الکتاب الاانھم لم یکن بین صلٰوتھم فصل فرفع النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم بصرہ فقال اصاب اﷲ بك یابن الخطاب [1](ملخصًا) قلت فھذا نص عن صاحب الشریعۃ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فی انفتالہ عن القبلۃ بعد صلٰوۃ یتبعھا تطوع فلاوجہ للنھی عنہ وان خص بعض کراہۃ المکث مستقبلا بمالاتھوی بعدہ کما فی الغنیۃ عن الخلاصۃ واﷲ سبحٰنہ وتعالٰی اعلم۔ |
تعالٰی عنہ سے روایت کیا،فرمایا کہ میں نے یہ یا اسکی مثل نماز نبی اکرم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کے ساتھ ادا کی اور فرمایا کہ حضرت ابوبکر اورحضرت عمر رضی اﷲ تعالٰی عنہا امام کے پاس صفِ اوّل میں کھڑے ہوتے تھے اور ایك آدمی جو تکبیرِ اولٰی سے نماز میں شامل ہواتھا اُٹھ کر دو٢ رکعت نماز ادا کرنی شروع کردی حضرت عمر اس کی طرف فی الفور بڑھے اور کاندھے سے پکڑ کر حرکت دی اور کہا بیٹھ جاؤ اہل کتاب نہیں ہلاك ہوئے مگر اس لئے کہ وہ اپنی نمازوں کے درمیان فاصلہ نہ کرتے تھے۔نبی اکرم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے نظرِ مبارك اٹھا کر دیکھا اور فرمایا اے ابن خطاب اﷲ تعالٰی نے تیری رہنمائی فرمائی ہے قلت(میں کہتا ہوں) یہ صاحب شریعت صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کی طرف سے اس بات پر نص ہے کہ جس نماز کے بعد نوافل ہوں اس میں بھی امام قبلہ سے رُخ موڑے اور قبلہ رخ سے موڑنے پر کوئی نہی وارد نہیں (یعنی انصراف سے منع کرنے کی کوئی وجہ نہیں) اگرچہ بعض حضرات نے قبلہ رُخ بیٹھنے کی کراہت کو اس صورت کے ساتھ خاص کیا جبکہ امام بیٹھنے کے بعد کوئی نماز نہ پڑھنا چاہتا ہو جیسا کہ غنیہ میں خلاصہ کے حوالے سے ہے واﷲ سبحٰنہ وتعا لٰی اعلم(ت) |
[1] سنن ابو داؤد باب فی الرجل یتطوع فی مکانہ الخ مطبوعہ آفتاب عالم پریس لاہور ١/١٤٤،المستدرك للحاکم کتاب الصلٰوۃ لم یہلك اہل الکتاب الخ مطبوعہ دارالفکر بیروت ١/٢٧٠
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع