30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
کہ فقہا بعد ان فرضوں کے جن کے بعد تطوع ہے ترك استقبال قبلہ کو منع لکھتے ہیں اور لکھتے ہیں کہ ان فرضوں کے بعد اُسی ہیأت پر رہے اور فورًا تطوع میں مصروف رہے اس پر خلیل الرحمان نے یہ کہا کہ تعامل حرمین میں بھی یوں ہی ہے۔میں نے کتابوں میں دیکھا تو کہیں ممانعت نہ ملی صرف اتنا ملا کہ جن فرضوں کے بعد تطوع ہے مقدار اللھم انت السلام سے زیادہ توقف نہ کرے اس مسئلہ میں جو حضور کے نزدیك صواب ہو افادہ فرمائےے تاکہ میں اس کے مطابق عمل کروں بلکہ مناسب تو یہ ہوگا کہ عربی عبارت میں بطور اختصار اس کو قلمبد فرمائیے۔
الجواب:
|
الحمد ﷲ وحدہ السنۃ المتوارثۃ للامام من لدن امام الانام سید الرسل الکرام علیہ وعلیھم افضل الصلٰوۃ والسلام ھوالانصراف من القبلۃ لمن اراد مکثا مابعد السلام ،کل الصلٰوۃ فی ذلك متساویۃ الاقدام وصرح بذلك وبکراھۃ بقائہ مستقبل القبلۃ بعد التمام غیرواحد من العلماء العظام فالحق معکم ومازعم مخالفکم فقد افتری فیہ علی الفقھاء الفخام قال المولی المحقق محمد بن محمد بن محمد الشھیر بابن امیرالحاج فی الحلیۃ شرح المنیۃ ناقلا عن الذخیرۃ،اذاکان فرغ الامام من صلاتہ اجمعوالی انہ لایمکث فی مکانہ مستقبل القبلۃ ،سائرالصلوات فی ذلك علی السواء قال وقد صرح غیرواحدبانہ یکرہ ذلك اھ [1]،وقد اخرج الامام ابوداؤد |
سب تعریف اﷲ کے لئے جو وحدہ، لاشریك ہے امام الانام سید الانبیاء نبی اکرم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وعلیہم افضل الصلٰوۃ والسلام کی طاہری حیات سے لے کر اب تك امام کے لئے بطور سنّت منقول ہے کہ جو شخص سلام کے بعد کچھ ٹھہر نے کا ارادہ رکھتا ہو تو قبلہ سے رُخ پھیر ے۔قدیم زمانہ سے یہ حکم تمام نمازوں میں برابر چلا آرہا ہے اور تکمیلِ نماز کے بعد اس کے لئے قبلہ رُخ رہنا مکروہ ہے۔ ان دونوں باتوں کی تصریح بڑے بڑے علمائے اسلام نے فرمائی ،پس حق تمہارا ساتھ ہے ، اور تمہارے مخالف نے جوکچھ کہا وہ فقہاءِ کرام پر تہمت ہے،ہمارے نہایت ہی فاضل محقق محمد بن محمد بن محمد المعروف ابن امیرالحاج حلیہ شرح منیہ میں ذخیرہ کے حوالے سے لکھتے ہیں جب امام نماز سے فارغ ہوجائے تو سب علماء کا اتفاق ہے کہ وہ اپنی جگہ قبلہ رُخ نہ ٹھہرا رہے اور اس حکم میں تمام نمازیں برابر ہیں اور فرمایا کہ قبلہ رُخ رہنے کی کراہت پر متعدد علماء نے تصریح کی ہے اھ،اور امام ابوداؤد نے سنن میں، حاکم نے مستدرك میں ابورمثہ رضی اﷲ |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع