30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
بحرف من الحروف اولایقدر علی اخراج الفاء الابتکرار[1]۔ |
قادر نہ ہو یا ف کو بدون مکرر کرنے کے ادا نہ کرسکے۔(ت) |
نور الایضاح ومراقی الفلاح میں ہے:
|
لایصح اقتداء من بہ الفأفأۃ بتکرار الفاء والتمتمۃ بتکرار التاء فلایتکلم الابہ [2]اھ ملخصا |
اس شخص کی اقتدا درست نہیں جس کوفأفأۃ کا عارضہ ہو یعنی ف کو تکرار سے پڑھتا ہو یا تمتمۃ کا عارضہ ہو یعنی ت کو تکرار سے پڑھتا ہو یعنی جب بھی ایسے حروف کو بولتا ہے تو وہ حرف تکرار سے اداہوتا ہے اھ ملخصًا (ت) |
٣تیسرے وہ کہ ہکلاتے وقت نہ کوئی حرف غیر نکالتے ہیں نہ اسی حرف کی تکرار کرتے ہیں بلکہ صرف رك جاتے ہیں اور جب ادا کرتے تو ٹھیك ادا کرتے ہیں ایسوں کے پیچھے نماز صحیح ہے۔ہندیہ میں ہے:
|
الذی لایقدر علی اخراج الحروف الابالجھد ولم یکن لہ تمتمۃ او فأفاۃ فاذا اخرج الحروف اخرجھا علی الصحۃ لایکرہ ان یکون اماما ھکذا فی المحیط۔[3] |
وہ شخص جو کوشش کے بغیر ادائے حروف پر قادر نہ ہو نہ تو وہ تکرارِ ت کرتا ہو اور نہ ہی تکرارِ ف تو جب حروف ادا کرتا صحیح ادا کرتا ہے ،تو ایسے شخص کو امام بنانا مکروہ نہیں۔محیط میں یونہی ہے۔(ت) |
رہا یہ کہ کوئی کراہت بھی ہے یا نہیں ۔ظاہر ہے کہ اگر اُن کا رُکنا اتنی دیر نہ ہوتا جس میں ایك رکن ادا کرلیاجائے جب تو کراہت کی کوئی وجہ نہیں اور اگر اتنی دیر ہو تو اگر چہ بوجہ سہو اس قدر سکوت موجب سجدہ سہوہے اور بلا عذر کراہت تحریم کما یظھر من التنویر والدر والغنیۃ وردالمحتار(جیسا کہ تنویر،در،غنیہ اورردالمحتار میں اس کا بیان واضح ہے۔ت) اور اگر ان کا رکنا بعذر ہے جس طرح جمائی یا چھینك یا کھانسی وغیرہا اعذار کے باعث بعض اوقات سکوت بقدرادائے رُکن ہوجاتا ہے تو ظاہرًا یہاں وہ حکم نہیں ،ہاں اس میں شك نہیں کہ ان کا غیر ان سے اولٰی ہے جبکہ بہ سبب حاضرین سے اعلم باحکام طہارت و نماز نہ ہوں۔واﷲ تعالی اعلم۔
(٣) نشہ جو ہمارے محاورہ میں سکر و تفتیردونوں کو عام ہے اور بنص حدیث دونوں حرام اُس کے یہی معنی نہیں کہ زمین و آسمان یا مرد و عورت میں امتیاز نہ رہے یہ تو اس کی انتہا اور نشہ کی ابتدا انتہا دونوں حرمت میں یکساں پس اگر افیون کے سبب کچھ بھی اس کی عقل میں فتور یا حواس میں اختلال پیداہو توکسی وقت پینك آتی ہو
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع