30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
مسئلہ نمبر ٥٩٧ تا٥٩٩: از ماہرہ مطہرہ مرسلہ حضرت میاں صاحب قبلہ سیّد شاہ ابولحسین احمد نوری میاں مدظلہ الاقدس ٣٠ذی الحجہ ١٣١٢ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ:
(١) توتلے کے پیچھے نماز کیسی ہے؟
(٢) ہکلے کے پیچھے نماز کیسی ہے؟
(٣) ایك شخص تھوڑی سی افیون بغرضِ دوا کھاتا ہے اور اسکے سبب اسے نشہ نہیں ہوتا ایسے کی امامت مکروہ ہے یا نہیں؟
الجواب:
(١) مذہب صحیح میں غیر توتلے کی نماز اُس کے پیچھے باطل ہے ،خیریہ میں ہے :امامۃ الالثغ بالفصیح فاسدۃ فی الراجح الصحیح [1](توتلے کی امامت فصیح(غیرتوتلے) کے لئے راجح اور صحیح قول کے مطابق فاسد ہے۔ت)
(٢) اگر ہکلا نماز میں نہ ہکلائے جیسے بعض لوگوں کا ہکلانا وقت غضب سے مخصوص ہوتاہے صرف غصہ میں ہکلانے لگتے ہیں ویسے صاف بولتے ہیں یا بعض کا ہکلانا بے پروائی کے ساتھ ہوتا ہے اگر تحفظ واحتیاط کریں تو کلام صاف ادا ہو ایسے لوگوں کو دیکھا گیا کہ باتوں میں ہکلاتے ہیں اور اذان و نماز و تلاوت میں اس کا کچھ اثر نہیں پایا جاتا ایسی صورت میں تو کلام نہیں کہ وہ حق نماز میں خود فصیح ہے اور جو ہو جگہ ہکلائے اس کی تین قسمیں ہیں:
١۔ایك وہ کہ ان کی تکرار میں بعض حروف معین ہیں مثلًا کاف یا چ یاپ کہ جہاں رُکیں گے ان ہی حروف کی تکرار کریں گے یا گھبرا کر ایں ایں کرنے لگتے ہیں ان کے پیچھے فسادِ نماز بدیہی ہے۔
٢۔ دوسرے وہ کہ جس کلمہ پر رُکتے ہیں اُسی کے اوّل حرف کی تکرار کرتے ہیں، اس صورت میں اگرچہ حرف خارج نہیں بڑھتا بلکہ اُسی کلمہ کا ایك جزو مکرر ادا ہوتا ہے مگر از انجاکہ حرف بوجہ تکرار لغو ومہمل وخارج عن القرآن رہ گیا ان کے پیچھے بھی نماز فاسد ہے،درمختار میں توتلے کے پیچھے فسادِ نماز کا حکم لکھ کر فرماتے ہیں:
|
ھذاھو الصحیح المختار فی حکم الالثغ وکذامن لایقدرعلی التلفظ |
توتلے کے بارے میں مختار اور صحیح حکم یہی ہے اور اسی طرح وہ شخص ہوگا جو حروف تہجی میں سے کسی حرف کی ادا پر |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع