30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
شخص کے پیچھے نماز کا کیا حکم ہے؟
الجواب:
اگر باہر نکلنے میں اس کے کپڑے خلافِ شرع ہوتے ہیں مثلًا باریك کہ بدن چمکے یا اوچھے کہ سترِ عورت نہ کریں جیسے اونچی کُرتی پیٹ کُھلا ہو ا یا بے طوری سے اوڑھے پہنے جیسے دوپٹہ سر سے ڈھلکا ،یا کچھ حصہ بالوں کا کُھلا،یا زرق برق پوشاك جس پر نگاہ پڑے اور احتمالِ فتنہ ہو یا اسکی چال ڈھال بول چال میں آثار بدوضعی پائے جائیں اور شوہران باتوں پرمطلع ہوکر باوصفِ قدرت بندوبست نہیں کرتا تو وہ دیّوث ہے اور اسکے پیچھے نمازمکروہ،
|
فان الدیوث من لایغار علی امرأتہ اومحرمہ [1]کما فی الدرالمختار وھوفاسق واجب التعزیر فی الدر لواقرعلی نفسہ بالدیاثۃ او عرف بھا لایقتل مالم یستحل ویبالغ فی تعزیرہ [2] الخ والفاسق تکرہ الصلاۃ خلفہ۔ |
دیّوث ہر وہ شخص ہے جس کو اپنی بیوی اور محرم پر غیرت نہ آئی ہو(اس کے پاس غیر مرد کے آنے سے) جیساکہ دُرمختار میں ہے ایسا شخص فاسق ہے اور اس پر تعزیہ واجب ہے۔دُرمختار میں ہے اگر کوئی اپنی ذات کے بارے میں دیّوث ہونے کا اقرارکرتا ہے یا اس فعل قبیح میں معروف ہوا تو اسے قتل نہیں کیا جائے گا جب تك وہ دیوثت کو حلال نہ جانے لیکن تعزیر میں مبالغہ کیا جائے گا الخ اور فاسق کے پیچھے نماز مکروہ ہے۔(ت) |
اور اگر ان شناعتوں سے پاك ہے تو اس کے پیچھے نماز میں کوئی حرج نہیں،
|
فان المرأۃ نفسھالا تفسق بمجرد کونھا برزۃ تخالط الرجال حتی انھا تصلح مزکیۃ معدلۃ للشھود فلا شنعتہ بذلك علی زوجھا فی الھندیۃ یقبل تعدیل المرأۃ لزوجھاوغیرھ اذاکانت امرأۃ برزۃ تخالط الناس وتعاملھم کذافی المحیط السرخسی ٣[3] واﷲ تعالٰی اعلم۔ |
کیونکہ عورت بذاتہا بے پردہ رہنے اور مردوں سے اختلاط کی وجہ سے فاسق نہیں ہوتی حتی کہ وہ گواہوں کی تعدیل اور تزکیہ کی صلاحیت رکھتی ہے تو اس بناپر اس کے خاوند پرکوئی اعتراض نہ ہوگا۔ہندیہ میں ہے کہ اس عورت کی خاوندوغیرہ کے بارے میں تعدیل قبول کی خاوند وغیرہ کے بارے میں تعدیل قبول کی جائے گی جب وہ ایسی ہو کہ با پردہ باہر آئے اور مردوں سے اختلاط اور معاملات کرے،محیط سرخی میں اسی طرح ہے واﷲ تعالٰی اعلم (ت) |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع