30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
جو لوگ ایسے شخص کی حمایت کرتے ہیں نماز کے دشمن اور مسجد کی ویرانی اور اہل اسلام کے عمدہ شعار یعنی نماز کی بربادی چاہنے والے ہیں۔واﷲ تعالٰی اعلم
مسئلہ نمبر ٥٩٥: ازرنگون مرسلہانتظام علی صاحب ١٥ذی الحجہ ١٣١٢ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین مرجہ ذیل مسئلہ میں : ایك شخص کا دہنا ہاتھ ٹوٹ گیا ہے اس وجہ سے نیت باندھتے وقت ہاتھ اسکا گوش تك نہیں پہنچتا کہ اس کو مس کرے، اس سبب سے بعض لوگ اس کے پیچھے اقتداء کرنے سے انکار کرتے ہیں کیا موافق ان لوگوں کے اس کے پیچھے نماز نہیں ہوسکتی؟
الجواب: خیال مذکور غلط ہے اُس کے پیچھے جوازِنماز میں کلام نہیں،ہاں غایت یہ ہے کہ اسکا غیر اولٰی ہونا ہے وہ بھی اس حالت میں کہ یہ شخص تمام حاضرین سے علم مسائل نماز وطہارت میں زیادت نہ رکھتا ہو ورنہ یہی احق و اولٰی ہے۔
|
فی ردالمحتار تحت قولہ تکرہ خلف امرد وسفیہ ومفلوج وابرص الخ وکذلك اعرج یقوم ببعض قدمہ فالاقتداء بغیرہ اولی تاتار خانیۃ وکذااجذم برجندی ومجبوب وحاقن ومن لہ ید واحد فتاوی الصوفیۃ عن التحفۃ [1] اھ وفی الدر یکرہ امامۃ الاعمی الا ان یکون اعلم القوم فھو اولٰی اھ [2]ملخصاواﷲ سبحٰنہ وتعالٰی اعلم۔ |
ردالمحتار میں ماتن کے قول "امرد، بیوقوف، مفلوج اور ابرص کے پیچھے نمازمکروہ ہے"الخ کے تحت ہے یہی حکم اس لنگڑے کاہے جو اپنے قدم کے بعض حصے پر قیام کرتا ہو، پس اس صورت میں غیر لنگڑے کی اقتداء بہتر ہوگی، تاتار خانیہصاحب ِجزام کابھی یہی حکم ہے۔برجندی،مقطوع الذکر ،پیشاب روك رکھنے والا اور وہ شخص جس کا ایك ہی ہاتھ ہو اس کا بھی یہی حکم ہے۔فتاوٰی صوفیہ میں تحفہ کے حوالے سے یہی ہے اھ اور درمختار میں ہے نابینا شخص کی امامت مکروہ ہے سوائے اس صورت کے کہ وہ قوم میں سب سے زیادہ عالم ہو تو اس صورت میں وہی امامت کے زیادہ لائق وافضل ہے اھ ملخصًا واﷲ تعالٰی اعلم(ت) |
مسئلہ ٥٩٦: ایك شخص کی جوان بی بی بے پردہ باہر نکلی ہے بلکہ بازار میں بیٹھ کر کچھ سودا بیچا کرتی ہے پس اُس
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع