30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
یہاں تك تو مجرد کراہت تھی اب جبکہ اُس کے حالات سے معلوم ہوا کہ اپنا وہ کوئی عقیدہ نہیں رکھتا بلکہ بعض اہلِ بدعت جوبات کہہ دیں وہ اس کے نزدیك مسلّم ہوتی ہے حتّی کہ ان کے کفریات کو مسلّم رکھتا ہے اوراس کی ترویج میں بجان ودل ساعی ہوتا ہے تو معلوم ہواکہ بدعت اس کی حدِ کفر تك پہنچی ہے اور انتہا اس کے عقیدہ زائغہ کی نہیں معلوم ہوسکتی بلکہ جب اپنے اُن پیشواؤں کو بھی گالیاں دیتااور ان کے مذہب سے تبرّاکرتا ہے تو ظاہر اس کے حال سے یہ ہے کہ وہ محض زندیق ملحد بے دین ہے جسے کسی خاص کسی مذہب سے غرض نہیں بلکہ مجرد مخالفت دینِ اسلام ومذہب اہل سنّت منظور ہے ایسے شخص کے پیچھے نماز قطعًا باطل وحرام ہے۔
|
فی البحرالرائق قیدہ فی المحیط والخلاصۃ والمجتبٰی وغیرھا بان لایکون بدعتہ تکفرہ فان کانت تکفرہ فالصلاۃ خلفہ لاتجوز[1]۔ |
بحرالرائق میں ہےمحیط،خلاصہ،مجتبٰی وغیرہ مین ہے اس کی بدعت حدِکفر تك پہنچی ہو،اگراس کی بدعت حد کفر تك پہنچتی تو اس کے پیچھے نماز جائز نہ ہوگی۔(ت) |
کبیری میں ہے:
|
انما یجوزالاقتداء بہ مع الکراھۃ اذا لم یکن مایعتقدہ یؤدی الی الکفرامالوکان مؤدیا الی الکفر فلایجوز اصلا[2]۔ |
کراہت کے ساتھ اس کی اقتداء اسی صورت میں جائز ہے جب اس کا اعتقاد حدِکفر تك نہ پہنچادے اگر وُہ حد ِ کفر تك پہنچاتاہے تو بالکل اس کے پیچھے نماز جائز نہ ہوگی۔(ت) |
اور بعد امتحان و تجربہ کے ظاہر کہ فریب ِمسلماناں کے لئے توبہ کرتا ہے اور ان عقائد ومکائد سے باز نہیں آتا ہر گز اس کی توبہ پر اعتبار نہ ہوگا خصوصًا امرِنماز میں تمام اعمال سے افضل واتم ہے جولوگ ایسی توبہ پر اعتماد کرتے ہیں ان سے پوچھا جائے اگر کسی شخص کے چور ہونے کا تمہیںیقین ہوگیا اور وہ بار بار توبہ کرکے پھر چوریاں کرتا ہو ، آیا اس کی توبہ پر مطمئن ہوکہ پھر بھی اپنا مال اسے سپرد کردو گے افسوس مالِ دنیوی کہ اﷲ کے نزدیك محض حقیر وذلیل ہے تمہاری نگاہ میں ایسا عزیز ٹھہرا کہ جس امر میں اس کے نقصان کا وہم بھی ہو اُس سے پرہیز کرو اور نماز کہ اﷲ کو نہایت محبوب اور اس کے نزدیك بس عظیم ہے اس میں یہ مداہنت اگر بالفرض اس کی توبہ سچّی اور صدق باطن سے ہو تاہم جب حال اس کا مشتبہ ہوچکا تو خواہ مخواہ اس کے پیچھے نماز پڑھنے کا کس نے فرض وواجب کیا، کیا ایسا کوئی شخص نہیں ملتا جو ان معائب سے بری اور اس کے پیچھے نماز بلا اشتباہ درست ہو،اور
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع