30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
ان کی طر ف راغب اور متوجّہ کرتا ہے تو کہہ دیتا ہے مجھے تو قال اﷲ وقال الرسول سے غرض ہے نہ اُن کے مسائل سے ،گویا اُس کے نزدیك سنّی علماء جو مسجد میں وعظ کہتے ہیں وعظ اُن کا قال اﷲ وقال الرسول کےخلاف ہے جو اسے نہیں سنتا اور جب اُن کے مجامع میں شریك ہونے اور مذہب کی تائید وتقویت سے تعرض کیا جاتا ہے تو کبھی انکار کرتا ہے اور جب انکار سے چارہ نہیں پاتا تو توبہ کرتا مگر افعال مذکورہ بدستور رکھتاہے چنانچہ ایك سال میں تین بار توبہ کی اور ہر بار انھیں افعال کا مرتکب رہا،تیسری بات توبہ کے بعد ایك سنّی واعظ کو بعدنماز جمعہ کے وعظ کے لئے منبر پر بیٹھ لئے تھے وعظ سے روکا اور مذہب کے ایك عیار کو ایك مثنوی پڑھنے کو بٹھا دیا جس کی تصنیف کا باعث عوام کو مغالطہ دہی اور انھیں دامِ فریب میں لینا اور اپنے مذہب کی طرف گرویدہ کرنا ہے اور اس میںوہ عیاری وچالاکی کی ہے جس کی حقیقت عوام اور ناواقفوں کی سمجھ میں نہ آسکتی مگر مصنف مثنوی کو سب اہلسنّت پہلے سے اپنا مخالف مذہب جانتے تھے لہذا واعظ سنّی کو اُٹھا کر اُس شخص کو بٹھانا اور وعظ سے روك کے اسی کی مثنوی پڑھوانا باعث ِ برہمی اہلسنت کا ہوا اور جولوگ اس کی ظاہری باتوں اور باربار کی توبہ کے فریب میں تھے اُن پر حال اس کا منکشف ہوگیا اور نماز اُ س کے پیچھے چھوڑ دی اور جو واقف ہوتاجاتا ہے اس مسجد میں نماز کو نہیں آتا روز بروز جماعت میں کمی اور مسجدکی ویرانی اور خرابی ہوتی جاتی ہے ہر وہ لوگ کہ احوال واقعی سے آگاہ اور اس کی چالاکیوں اور عیاریوں سے واقف نہیں اُس کی پیچھے نماز پڑھنے آتے ہیں اور بعض اشخاص جنہیں نماز سے کام نہ دین سے غرض بعض وجوہ نفسانی سے مسلمانوں کی نماز اور مسجد کی خرابی گوارا کرکے اس کی حمایت بیجا اور امامت قائم رہنے پر اصرار کرتے ہیں آیا اس شخص کو سنّی کہا جائے گایا دوسرے مذیب میں شمار کیا جائے گا یا کسی میں نہیں،اور باوجود ان سب امورات کے اس کی توبہ کا اعتبار ہوگا یا نہیں ،اور ایسے شخص کے پیچھے نماز کا کیا حکم ہے اور مسلمانو ں کو اُسے امامت سے موقوف کرکے کسی شخص سنّی صحیح العقیدہ واقف مسائل و قواعد قرأت کو جس کی امامت پرکوئی فتنہ اور اختلاف اور جماعت کی کمی اور مسجد کی ویرانی نہ ہو اس کی جگہ مقرر کرنا اور اس کی حمایت کرنے والوں کو حمایت سے باز آنا ضرور ہے یا نہیں؟ بینوا توجروا
الجواب:
جو شخص مسائل نماز سے جاہل ہو اس کی امامت میں احتمال قوی نماز کے فساد وخرابی کا ہے کہ اس سے اکثر باتیں ایسی واقع ہوں گی جن سے نماز فاسد ہوجائے گی یا اس میں نقصان آئے گا۔ اور بسبب جہالت کے اُن پر مطلع نہ ہوگا اور اُن کی اصلاح نہ کرسکے گا اسی طرح جو شخص مخارج وصفات و حروف و قواعد تجوید سے آگاہ نہ ہو عجب نہیں کہ اُس کے پڑھنے میں قرآن میں ایسا تغیّر واقع ہوجائے جو بالاتفاق یا ایك مذہب پر موجب فسادنماز کا ہو کیا بلا ضرورت ایسے شخص کو امام کرنا نماز میں کہ عماد اسلام وافضل اعمال ہے بے احتیاطی
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع