30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
نماز ترك کی۔آیا امام ہونا نماز جنازہ کا امام الحی مولوی کو لائق تھا یا دوسرے مولوی کو ،اور نماز کا ترك کرنا امام الحی کا ایسے شخص کے پیچھے مناسب تھا یا نہ اور سب نمازیعنی پانچ وقتی اور جمعہ کی اور جنازہ کی ان سب نمازوں میں امام ہونا ان دونوں میں سے کون لائق ہے؟بینوا توجروا۔
الجواب:
فی الواقع جبکہ ان بلاد میں حکام اسلام سلطان والی وقاضی مفقودہیں اور جب وہ نہیں تو ان کے نائب کہاں، اور اولیائے میّت حسبِ تصریح سائل محض جاہل تھے تو صورت ِمستفسرہ میں امام مسجد کو سب پر تقدم اور اسی کو امام کرنا مستحب و بہتر تھا۔
|
تنویر الابصار وردالمحتار یقدم فی الصلاۃ علیہ السلطان ( ثم نائبہ کما فی الفتح) ثم القاضی (فی الفتح ثم خلیفۃ الوالی ثم خلیفۃ القاضی ومثلہ فی الامداد عن الزیلعی) ثم امام الحی[1] اھ ملتقطا وفی الدرتقدیم الولاۃ واجب وتقدیم اماالحی مندوب فقط بشرط ان یکون افضل من الولی والافالولی اولٰی ٢[2]الخ۔ |
تنویر الابصار اور ردالمحتار میں ہے نمازِ جنازہ مین سلطان مقدم ہے(پھر اس کا نائب جیسا کہ فتح میں ہے) پھر قاضی (فتح میں ہے پھر والی کا نائب پھر قاضی کا نائب اور امداد میں زیلعی کے حوالے سے اسی طرح ہے) پھر محلہ کا امام اھ تلخیصًا۔ اوردر میں ہے حکام کی تقدیم واجب اور محلہ کے امام کی تقدیم فقط مندوب ہے بشرطیکہ وہ ولی سے افضل ہوورنہ ولی اولٰی ہوگا الخ (ت) |
شخص دیگر کا ترك جماعت تو صرف گناہ تھا کہ بعد اعادہ گناہ کبیرہ موجبِ فسق ہوا اور تعزیہ رائجہ بنانے کو اچھا جاننابدعت شیعہ کی تحسین اور حضرت امیر المومنین سیدنا مولٰی علی کرم اﷲ وجہہ الکریم کو حضرت شیخین رضی اﷲ تعالٰی عنہما سے افضل بتانا رفض و بد مذہبی، یہی وجوہ اس شخص کے پیچھے نماز کے سخت مکروہ ہونے کو کافی تھا۔خلاصہ وفتح القدیر وہندیہ وغیرہا میں ہے: ان فضل علیا علیھما فمبتدع [3]۔اگرکوئی شخص سیدنا علی رضی اﷲ تعالٰی عنہ کو دونوں خلفاء پرفضیلت دیتا ہے تو وہ بدعتی ہے ۔ت) ارکان اربعہ میں ہے:
|
اما الشیعۃ الذین یفضلون علیا |
وہ شیعہ لوگ جوحضرت علی رضی اﷲ تعالٰی عنہ کو |
[1] ردالمحتار باب صلٰوۃ الجنائز مطبوعہ مصطفی البابی مصر ١/٦٤٩
نوٹ: ہلالین کے اندروالی عبارت ردالمحتار کی ہے اور باہر والی تنویرالابصار کی ہے جو حاشیہ ردالمحتار پر موجود ہے۔
[2] درمختار باب صلٰوۃ الجنائز مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی ١/ ١٢٣
[3] خلاصۃ الفتاوٰی الفصل الخامس عشر فی الامامۃ الخ مطبوعہ مکتبہ حبیبیہ کوئٹہ ١/١٤٩
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع