30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
مستحب مانحن فیہ سے محض بیگانہ اور اس کلیہ دلیل کے صریح ناقص ،نظم زندویسی کی وُہ روایت ہے جسے علامہ ابن امیر الحاج حلبی نےشرح منیہ میں نقل فرمایا :
|
حیث قال تسعۃ اشیاء اذا لم یفعلھا الامام لا یترکھا القوم رفع یدین فی التحریمۃ و الثناء مادام الامام فی الفاتحۃ وتکبیرالرکوع والسجود والتسبیح فیھما والتسمیع وقرأۃ التشھد والسلام وتکبیرات التشریق١[1] اھ (ملخصا) |
ان کی عبارت یہ ہے کہ نواشیاء ایسی ہیں اگر امام انھیں نہ کرے تو قوم ترك نہ کرے تحریمہ کے لئے رفع یدین ، ثناء کا پڑھنابشرطیکہ امام فاتحہ میں ہو،رکوع کی تکبیر، سجود کی تکبیر ،ان دونوں میں تسبیح ،سمع اﷲ لمن حمدہ کہنا، قرأۃ تشہد،سلام اور تکبیرات تشریق اھ ملخصًا(ت) |
کہ اگر ہر فعل میں متابعت امام فرض ہو، تو جس طرح مستحب مزاحم فرض نہیں ہوسکتا ،سنن بھی بلکہ واجبات بھی صلاحیتِ مزاحمت نہیں رکھتے توان چیزوں میں ائمہ کا یہ حکم کہ اگر امام نہ کرے جب بھی مقتدی نہ چھوڑیں کیونکر صحیح ہوتا قلت والاستقراء یمنع الحصر والعدولاینبغی الزائد ولعبارۃاخرٰی(میں کہتا ہوں تتبع وتلاش نویں حصہ کے منافی ہے لیکن عدد اقل، کثر کے منافی نہیں اور دوسری طرح گفتگو یوُں ہے۔ت) متابعت امام صرف افعال نماز میں منظور ہے یا جو بات نماز سے کچھ علاقہ نہیں رکھتی اس میں بھی ضرور ہے۔ برتقدیر ثانی اگر امام کھجلائے تو مقتدیوں میں بھی خارش مچ جائے ،اگر امام احیانًا ٹھنڈی سانسیں لے تو مقتدیوں کو بھی دھونکنی لگ جائے ۔اوربرتقدیر اول کیا ترك مستحب بھی افعالِ نماز میں معدودہے جس میں متابعت حتمًا مقصود ہے۔
ثمّ اقول: بلکہ اگر نظر دقیق کو رخصتِ تدقیق دی جائے تو اس لزوم متابعت کے سلب کلیت درکنار کلیت سلب واضح اور آشکار ۔
|
لما ذکرنا انہ لا متابعۃ فی مالا تعلق لہ بالصلٰوۃ وترك المستحب کذلك ومایترا أی من النقص بما اذاااستلزم فعلہ مخالفۃ الامام فی واجب فعلی فانہ ح یجب متابعۃ |
اس بنا پر جو ہم نے ذکر کیا کہ ان چیزوں میں متابعت نہیں ہے جن کا نماز سے تعلق نہیں اور ترك مستحب بھی اسی طرح ہے مجھے یہ ظاہر ہو اہے کہ اس صورت کے ساتھ اعتراض درست نہیں کہ جس کے فعل سے |
[1] غنیۃ المستملی شرح منیۃ المصلی فصل فی الامام الامۃ مطبوعیہ سہیل اکیڈمی لاہور ص ٥٢٨
ف: ابن امیر الحاج کیشرح منیہ مجھے نہیں مل سکی۔نذیر احمد سعیدی
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع