30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
مستحب مزاحم فرض نہیں ہوسکتا۔بینوا توجروا
الجواب:
متابعتِ امام ہرفعل وترك میں علی الاطلاق فرض و واجب کیا معنی مسنون اور مستحب بھی نہیں بلکہ بعض صورتیں خلافِ اولٰی اور بعض میں محض ناجائز ہوتی ہے،
|
فی ردالمحتار والمتابعۃ لیست فرضا بل تکون واجبۃ فی الفرائض والواجبات الفعلیۃ وتکون سنۃ فی السنن وکذافی غیرھا عند معارضۃ سنۃ وتکون خلاف الاولٰی اذاعارضھاواجب اٰخر اوکانت فی ترك لایلزم من فعلہ مخالفۃ الامام فی واجب فعلی کرفع الیدین للتحریمۃ ونظائرہ وتکون غیرجائزۃ اذا کانت فی فعل بدعۃ اومنسوخ اوما لا تعلق لہ بالصلاۃ اصلا ١[1] الخ |
ردالمحتار میں ہے متابعت ِامام فرض نہیں بلکہ فرائض اور واجباتِ فعلیہ میں واجب ،سُنن میں سنت،اور اسی طرح ان کے علاوہ میں سنت کے معارضہ کی صورت میں اور متابعت خلاف اولٰی ہے جب اس کے ساتھ واجب آخر کا معارضہ ہوجائے ،یا ایسی چیز کے ترك میں جس کے فعل سے واجب فعلی میں امام کی مخالفت لازم نہ آئے مثلًا تحریمہ کے لئے رفع یدین کرنا اور اس کی دیگر نطائر اور متابعت فعل بدعت ،منسوخہ یا ایسے عمل میںجس کانماز سے کوئی تعلق نہ ہو ناجائز ہے الخ(ت) |
پھر اگرا س مستحب متروك الامام کے فعل سے کسی واجب فعلی میں مخالفت امام لازم نہ آئے تو اس کا فعل ہی اولٰی اور انسب ہوگا ۔اور وہ مستحب درجہ استحباب سے بھی نہ گرے گا ،چہ جائیکہ بسبب ترك متابعت ،حرام یا ہلکے درجے کا مکروہ ہی ہوجائے ۔کیا اگرامام ادب نظر کی مراعات نہ کرے تو مقتدی بھی آنکھیں پھاڑے دیوارِ قبلہ کو دیکھتے رہیں ، کیا اگر امام بحالتِ قیام پاؤں میں فصل زیادہ رکھے تو مقتدی بھی ٹانگیں چیرے کھڑے رہیں۔ کیا اگرایسا نہ کریں تو بحکم متابعت تارك واجب وآثم وگنہگار ہوں گے لایقول بہ عاقل فضلا عن فاضل(اس کا قول کوئی عاقل نہیں کرسکتا چہ جائیکہ کوئی فاضل کرے۔ت)اسی قبیل سے ہے عمامہ باندھنا مسواك وغیرہ کرنا 'غیرذلك من الاٰداب والحسنات التی لایستلزم فعلھا مخالفۃ الامام فی واجب فعلی(اس کے علاوہ آداب و حسنات جن کے بجالانے سے واجب فعلی میں امام کی مخالفت لازم نہیں آتی۔ت) اور یہیں سے ظاہر ہوگئی اس دلیل کی شناعت،اور یہ قاعدہ مسلمہ تعارض واجب وفرض و
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع