30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
چھوٹی چھوٹی بعض سُورتیں جو زید کوخوب صاف وصحیح یاد ہوں۔انہیں پر اکتفا کرنے میں زید سے وہ خرابیاں واقع نہ ہوتی ہوں،ان سین وصاد وغیرہما حروف بھی ٹھیك اداکرلیتا ہو،تو واجب بلکہ لازم ہے کہ ہمیشہ انھیں سورتوں پر قناعت کرے ان کے سوا اورہرگز ہرگز نہ پڑھے جن میں کراہت درکنار نوبت تابہ فساد پہنچے اور جب اس تدبیر سے وہ خرابیاں زائل ہوں تو اس تقدیر پر زید ہی کی امامت رکھیں کہ ہرنماز میںچھوٹی سورتوں پر اقتصار ترك سنّت سہی مگر بعذر قوی ہے، اور عذر دافع کراہت بخلاف بکر کہ اس کے پیچھے بسبب فسق کراہت بلکہ سخت کراہت ہے ، تو زید ہی اولٰی بامامت ہے۔ اگر کوئی سورت زید کو صاف نہیں یاد قصار پراقتصار میں بھی وہی خرابیاں پیش آتی ہیں اگرچہ کم ہوں تو اسے ہرگزامام نہ کیا جائے ،کہ جب پڑے پر کھڑا ،مخفف کو مشدّد ،مشدّد کو مخفف ،س کو ص ،ص کو س پڑھنے کی عادت ہے تو یہ امور ایسی جگہ بھی ضرور واقع ہوں گے جن سے ہمارے ائمہ مذہب رضی اﷲ تعالٰی عنہم کے نزدیك نماز بالکل باطل ہوجائےگی ۔اس کے کوئی معنی نہیں کہ اغلاط کا عادی وہیں غلطی کرے جہاں معنٰی نہ بدلیں اور جہاں فساد معنی ہوتا وہاں نہ کرتا ہو، غلطی اپنے قصد واختیار کی نہیں جہاں چاہی کی جہاں چاہی نہ کی نہ بے علم آدمی یہ سمجھ سکتا ہے کہ کہا ں معنٰی بگڑیں گے کہاں نہیں ،خصوصًا جبکہ س و ص کی تبدیلی بر بنائے عجز ہو کہ عاجز لاجرم کہیں ٹھیك نہ پڑھے گا، اس تقدیر پر اس کے پیچھے نماز اصل مذہب اور تصحیح ائمہ محققین پر فاسد وباطل ہے،اور بحالت ِعجز تو جمہور ائمہ کے نزدیك امامت صحیح خواں کی اس میں اصلًا لیاقت نہیں بلکہ فاسق کے ہوتے ہوئے اس کی خود اپنی نماز نہ ہوگی کہ باوصف قدرت اس نے اس کی اقتداچھوڑ دی ، بخلافبکر کہ اگر چہ فاسق سہی مگر جبکہ صحیح خواں ہے تو اس کے پیچھے نمازباتفاق اصحاب صحیح ہے۔ رہی کراہت اُس کا علاج اعادہ سے ممکن بلکہ جب دوسرا کوئی قابلِ امامت نہیں تو کراہت بھی نہیں کہ عذر و ضرورت نافی کراہت ہیں۔ اور اسی سبب سے احسن واہم یہ کہ بکر اپنے رب جل وعلا سے ڈرے اپنے حال پر رحم کرے فسق و نافرمانی بادشاہ قہار سے تائب ہوکہ اس کے پیچھے نماز بروقت محبوب و مناسب ہو اگر روزِقیامت کا اندیشہ نہیں تو اس مجلس اسلامی میں صدارت نہ ملنے کی غیرت چاہئے۔آدمی اگر دنیا والوں کے کسی جلسہ میں جائے تو کوشش کرے گا کہ کوئی حرکت ایسی نہ ہو جو لوگ اچھی جگہ بٹھانے کے قابل نہ سمجھیں اور اگر کسی مجلس میں صدر کی جگہ سے ہاتھ پکڑ کر اُٹھادیا جائے کس قدر غیرت آئے گی ندامت ہوگی تو یہ اﷲ عزوجل کے دربار میں صدر مقام ہے۔یہاں کیوں نہ غیرت کو کام میں لائیے کہ کارکنانِ بارگاہِ سلطانی صدرجگہ سے ہاتھ پکڑ کر اٹھا نہ دیں ،اﷲ تعالٰی توفیق خیر افیق عطا فرمائے۔آمین واﷲ تعالٰی اعلم
مسئلہ نمبر ٥٩١: از ریاست رامپور مولوی امداد حسین برادرمولانا ارشاد حسین صاحب ١٢٩٤ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ اگر امام کوئی مستحب ترك کرے تو کیا مقتدیوں پر اس کا ترك بحکم متابعت واجب ہوتا ہے اوردلیل یہ کہ متابعت فرض ہے اور وہ فعل مستحب، اورقاعدہ کلیہ ہے کہ
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع