30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
بزازیہ میں ہے :
|
ان امکنہ ان یتخذ اٰیات خالیۃ عن تلك الحروف فعل والا سکت وان وجداٰیات خالیۃ عن لثغتہ ومع ذلك قرأ ما فیھا لثغتہ لایجوز وعلی قیاس ما ذکرنا فی المسئلۃ الاولی ان بدل حرفا بحرف ولم یقدر لایفسد وبہ نأخذ وکذا المستقین مکان المستقیم الاان غیرہ لایقتدی [1] بہ۔ |
اگراس کے لئے ممکن ہے تو ایسی آیات پڑھے جو ان حروف سے خالی ہوں ورنہ ساکت رہے اور اگر وہ ایسی آیات (جن میں اس کو توتلاپن نہیں ہوتا) پر قادر ہونے کے باوجود وُہ آیات پڑھتا ہے جن میں توتلا پن ہوتا ہے تو یہ جائز نہیں، اور پہلے مسئلہ میں ہم نے جو کچھ بیان کیا اس پر قیاس کرتے ہوئے اگر اس نے ایك حرف کو کسی حرف کےساتھ بدل دیا اور درست پڑھنے پر قادر نہ ہو تو فسادِنماز نہیں آئے گا،اسی پرہمارا عمل ہے، اسی طرح وہ جس نے مستقیمکی جگہ مستقین پڑھا ، مگر کوئی دوسرا اس کی اقتدا نہ کرے۔(ت) |
غنیہ میں محیط ،فتاوٰی حجہ ،فتاوی خانیہ وغیرہا کی عبارات لکھ کر فرمایا:
|
الحاصل ان اللثغ یجب علیھم الجھددائما وصلٰوتھم جائزۃ ماداموا علی الجھد ، ولکنھم بمنزلۃ الامین فی حق من یصح الحرف الذی عجزوا عنہ لایجوزاقتدائہ بھم لاتجوز صلٰوتھم اذا ترکوا الاقتداء بہٖ مع قدرتھم وانما تجوز صلاتھم مع قرأۃ تلك الحروف اذا لم یقدروا علی قرأۃ تلك الحروف اذا لم یقدروا علی قرأۃ ماتجوز بہ صلاۃ ممالیس فیہ تلك الحروف واما لوقدروامع ھذا قرأوا تلك الحروف فصلٰوتھم فاسدۃ ایضًا ھذاھوالذی علیہ الاعتماد٢[2]۔ |
الحاصل توتلاپن رکھنے والے پر ہمیشہ تصحیح ِ حروف کی جدوجہد کرنا ضروری ہے اور جب تك ایسے لوگ جدوجہد کرتے رہیں گے ان کی نمازیں درست ہونگی اور حروف کوصحیح ادا کرنے والے کے حق میں امّی کی طرح ہیں لہذا صحیح اداکرنے والے کوان کی اقتداء نہیں کرنی چاہئے اور یہ لوگ صحیح پڑھنے والے کی اقتداء پر قادر ہونے کے باوجود اگراقتدا ترك کریں تو ان کی نماز نہ ہوگی اور ان کی اپنی نماز ان حروف کی قرأت کے ساتھ تبھی ہوگی جب یہ قرآن کے کسی اتنے حصے پر قادر نہ ہوں جتنے میں نماز جائز ہوجائے اور اس حصے میں وہ حروف بھی نہ ہوں اور اگر اتنی قرأت کی قدرت کے باوجود انہی حروف کو پڑھتے ہیںتو بھی ان کی نماز فاسد ہوگی یہ وہ ہے جس پر اعتماد ہے(ت) |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع