30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
تعالٰی الصراط المستقیم حیث قال لغۃ قریش ابدال السین صاداھناوفی کل موضع بعدھا عین اوخاء اوقاف باطراد ١[1]اھ والظاہر ممّا عن القنیۃ والحلیۃ مفسرا اعجامھاجمیعا فلیحرر۔ |
کہ اس مقام پر بلکہ ہر وہ مقام جہاں اس کے عین ،خاء معمہ یاقاف ہو وہاں سین کوصاد کےساتھ بدل کر پڑھنا لغتِ قریش ہے اور یہ مستعمل ہے اھ قنیہ اورحلیہ کے حوالے سے جوکچھ تفصیلًا گزرا اس سے معلوم ہوتا ہے کہ سب معجمہ ہوں،پس اسے اچھی طرح محفوظ کرو(ت)۔ |
پچھلے تین مسائل میں کہ بحالتِ فسادِمعنی فسادِنماز کا حکم ِمذکور ہمارے امام صاحب مذہب اور ان کے اتباع ائمہ متقدمین رضی اﷲ تعالٰی عنہم کا مذہب تھا اور وہی احوط و مختار ہے اجلّہ محققین نے اُسی کی تصریح فرمائی
|
ومعلوم ان الفتوی متی اختلف وجب الرجوع الی قول الامام کما نص علیہ فی البحروالدر وحواشیہ وغیرھا من اسفارالکرم۔ |
اور یہ بات معلوم ہے کہ جب اختلاف ہوتو فتوٰی میں قولِ امام کی طرف رجوع کیاجائے گا جیسا کہ اس پربحر ، در اور دیگر مبارك کتب میں تصریح موجود ہے(ت) |
غنیہ میں ہے :
|
الاولٰی الاخذفیہ بقول المتقدمین لانضباط قواعدھم وکون قولھم احوط واکثرالفروع المذکورۃ فی کتب الفتاوی منزلۃ علیہ[2]۔ |
بہتر یہ ہے کہ اختلافی صورت میں متقدمین کے قول کو لیا جائے کیونکہ ان کے قواعد نہایت مضبوط ہیں اور انکے اقوال بہت ہی محتاط ہوتے ہیں اور کتب فتاوٰی کی اکثر فروعات اسی پر مبنی ہیں۔(ت) |
اُسی میں ہے:
|
ھذابناء علی مختار المتقدمین وھوالمختار[3]۔ |
یہ متقدمین کے قولِ مختار کی بناء پر ہے اور درحقیقت یہی مختار ہے۔(ت) |
اُسی میں ہے :
|
ھذا ملخص قاعدۃ المتقدمین وھوالذی صححہ المحققون من اھل الفتاوی |
یہ قاعدہ متقدمین کا خلاصہ ہے اور اسی کو اہل فتوی محققین مثلًا قاضی خان وغیرہ نے صحیح قرار دیا |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع