30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
سلقوکم او بعدھا خاکقولہ یسخرون یجوز مکان السین صادا او زاء واماالتی بعدھا دال ان کانت الصاد ساکنۃ کقولہ یصدریجوز بالسین والزاء واما التی تکون متحرکۃ کقولہ الصمد لایجوز قرأتہ بالسین ولو قرأ بالسین تفسد صلاتہ وعلی ھذا یخرج کثیرمن المسائل انتھی [1]۔ |
یا کسی کلمہ میں س کے بعد ق ہو جیسے سلقوکم ،یااس کے بعد خاء معجمہ ہو جیسے یسخرون،تو ایسی صورت میں س کی جگہ ص یازپڑھنا جائز ہوگا،لیکن اگر ص کے بعددمہملہ ہو تواگر صاد ساکن ہو مثلًا یصدر تو اسے سین یا زاء پڑھنا جائز، اور اگر صاد متحرك ہے جیسے الصمد تواب اسے سین پڑھنا جائز نہیں ،اگر کسی نے سین پڑھا توا س کی نمازفاسد ہوجائے گی ،اسی ضابطہ پر بہت سے مسائل کی تخریج ہوتی ہے انتہی (ت) |
خانیہ میں ہے :
|
عن ابی منصور العراقی کل کلمۃ فیھاعین اوحاء اوقاف اوطاء اوتاء وفیھا سین اوصاد فقرأ السین مکان الصاداو الصاد مکان السین جاز اھ [2]۔ اقول:ھکذا ھوفی الخانیۃ طابع کلکتۃ ١٨٣٥ المیلادیۃ باھمال العین والحاء جمیعا وکذاھو فی الغنیۃ طابع استامبول ١٢٩٥ الھجریۃ ومثلہ فی البزازیۃ طابع مصر ١٣١٠ ھ وفی الخانیۃ طابع مصرمن تلك السنۃ باعجام الخاء واھمال العین وھوالموافق لما فی عنایۃ القاضی حاشیۃ العلامۃ الخفاجی علی البیضاوی طبع مصر ١٢٨٣ ھ تحت قولہ |
ابو منصور عراقی کہتے ہیں ہر وہ کلمہ جس میں عین ،حاء ،قاف،طاء یا تاء ہو اس کلمہ میںسین یاصاد ہو توایسی صورت میں اگر کسی نے صاد کی جگہ سین یا سین کی جگہ صاد پڑھا تو جائز ہوگااھ (ت) اقول: (میں کہتا ہوں) خانیہ مطبوعہ کلکتہ١٨٣٥ میلادیہ میں یوں ہی عین مہملہ اورحاء مہملہ دونوں کا ذکر ہے، اسی طرح غنیہ مطبوعہ استنبول ١٢٩٥ھ میں ہے، اور بزازیہ مطبوعہ مصر ١٣١٠ھ میں بھی اسی طرح کے الفاظ ہیں، مگرخانیہ مطبوعہ مصر سنِ مذکورہ میں خاء معجمہ اورعین مہملہ کا ذکر ہے، اور یہ اس کے مطابق ہے جوعلّامہ خفاجی نے عنایۃ القاضی حاشیہ بیضاوی مطبوعہ مصر١٢٨٣ھ میں اﷲ تعالیٰ کے ارشاد گرامی الصراط المستقیم کے تحت لکھا ہے وہ فرماتے ہیں |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع