30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
ایاکبتشدد کاف نہیں ورنہ نہیں جیسے ماودعك بتخفیف دال اکبربتشدید راء،
|
فی الغنیۃ تخفیف المشدد الاصل فیہ انہ ان کان لا یغیر المعنی کأن قرأ وقتلوا تقتیلا لاتفسدوان غیربان ترك التشدید فی رب الفلق ونحوہ فاختیار عامۃ المشائخ انھا تفسد کذا فی الخلاصۃ وذلك التفصیل علی قول المتقدمین وتقدم انہ الاحوط وحکم تشدید المخفف کحکم عکسہ وکذلك اظہار المدغم وعکسہ فالجمیع فصل واحد١[1] اھ ملخصا۔ اقول: ھکذا فی کتب اخری حکم الفساد بتخفیف الرب وعندی فیہ وقفہ فقد قال فی القاموس قد یخفف٢[2] اھ ونقلہ الصاغانی عن ابن الانباری وانشد المفصل ؎ وقـد علـم الاقـوام ان لیـس فــوقــہ رب غیر من یعطی الحـظوظ ویرزق[3] نقلہ فی لسان العرب وغیرہا کما فی التاج۔ |
غنیہ میں ہے کہ جو لفظ مشدّد کو مخفف پڑھنے میں قاعد ہ یہ ہے کہ اسکو مخفف پڑھنے سے اگر معنی میںتبدیلی نہیں آتی،مثلًا قتلو تقتیلا(شد کے بغیر پڑھا تو نماز فاسد نہ ہوگی اور اگر معنی بدل جاتا ہے مثلًارب الفلق وغیرہ میں شد کو ترك کردیا تو عام مشائخ کے ہاں مختار یہی ہے کہ نماز فاسد ہوگی کذافی خلاصہ، اور یہ تفصیل متقدمین کے قول کے مطابق ہے اور پہلے گزر چکا کہ اسی میں زیادہ احتیاط ہے، مخفف کو شد کے ساتھ پڑھنا یامشدد کو مخفف پڑھنا دونوں کا حکم ایك جیسا ہے ۔اسی طرح مدغم کا اظہار یااسکا عکس ہو و ان تمام صورتوں کا ایك ہی حکم ہے اھ ملخصًا(ت) اقول : ( میں کہتا ہوں اسی طرح دیگر کتب میں ربکے مخفف پڑھنے پر فساد ِنماز کا حکم دیا گیا ہے اور میرے نزدیك اس میں توقف ہے ،کیونکہ قاموس میں ہے کہ اس میں کبھی کبھی تخفیف کی جاتی ہے اھ اسے صاغانی نے ابن الانباری سے نقل کیا ہے اور مفضل نے یہ شعر کہا ہے: ؎ ان اقوام نے یہ جان رکھاہے کہ ان سے اوپر رب کے سوا کوئی نہیں جو رزق اور نعمتیں عطا کرے۔تاج العروس کے مطابق یہ شعرلسان العرب میں وغیرہا میں منقول ہے۔(ت) |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع