30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
اقول: ھذاھوالموافق لکلام اصحابنا المتقدمین وقاعدتھم الغیر المنخرمۃ المختارۃ للمحققین فلا علیك ممایوجد من خلاف ذلك فی بعض الفروع المنقولۃ عن المتاخرین نعم ماذکر فی الراب فعندی فیہ وقفۃ فانہ القیاس فی اسم فاعل الربوبیۃ وان کان فی الاستعمال بمعنی اخرواھل اللغۃ لایذکرون المشتقات القیاسیۃ ولاھی موقوفۃ علی السماع والا لم تکن قیاسیۃ والقیاس لایردالابالنص علی ھجر انہ لاجرم قال فی تاج العروس ھواسم فاعل من ربہ یربہ ای تکفل بامرہ[1] اھ وصحۃ الصلٰوۃ تعتمد علی احتمال معنی صحیح ولوکان ثَم احتمالات فاسدۃ کما نص علیہ ھووغیرہ ففی ردالمحتار عند الاحتمال ینتفی الفساد لعدم تیقن الخطأ [2]اھ وفی الغنیۃ التحقیق فیہ العمل بصحۃ المعنی بوجہ محتمل وعدمھا کماقررنا انہ قاعدتھم الغیر المنخرمۃ ٣[3]اھ فافھم۔ |
اقول: ( میں کہتا ہوں ) یہ گفتگو ہمارے
متقدمین علماء کے کلام اور محققین کے اختیار کردہ ان کے پختہ ضابطہ کے مطابق ہے
لہذا متاخرین سے اس کے خلاف جو جزئیات منقول ہیں آپ ان کی طرف متوجہ نہ ہوں
البتہ لفظ رابکے بارے میں جو کچھ ذکر ہُوا اس میں مجھے توقف ہے کیونکہ قیاسًا یہ
ربوبیت سے اسم فاعل کا صیغہ ہے اگرچہ کسی دوسرے معنی کے لئے بھی مستعمل ہے اور
اہلِ لغت مشتقات قیاسیہ کا ذکر کرتے ہی نہیں اور نہ ہی وہ سماع پر موقوف ہوتے
ہیں ورنہ وہ قیاسی ہی نہ رہیں اور قیاس کو اس وقت رَد کیا جاسکتا ہے جب اس کے ترك
پر نص ہو۔ لاجرم تاج العروس میں ہے کہ راب ربہ یربہسے اسم فاعل ہے جس کے معنی
دوسرے کے معاملے کا کفیل ہونے کے ہیں اھ اور صحتِ نماز کا اعتبار صحتِ معنی کے
احتمال پر ہوتا ہے اگرچہ وہاں احتمالات ِفاسدہ بھی ہوں ،جیسا کہ اس پر شامی
وغیرہ نے تصریح کی ہے۔ردالمحتار میں ہے احتمال کے وقت فساد منتقی ہوجاتا ہے
کیونکہ خطا کا یقین نہیں رہتا اھ |
(٧) یونہی مشدّد کو مخفّف ،مخفف کو مشدد پڑھنا فساد معنی میں فساد نماز ہے جیسے ظللنا بتحفیف لام
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع