30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
بترکہ اللفاظ فضلا عن المعنی۔ |
الفاظ میں کوئی تبدیلی نہیں آتی چہ جائیکہ معنی میں تبدیلی آئے(ت) |
(٣) جن حروف مد یا لین پر مد نہیں مثلًا قال یقول قیل قول خیر۔ان پر بھی موجب فساد نہیں جبکہ حد سے زیادہ نہ ہوں ،ہاں حد سے متحاوز ہو جیسے گانے میں زمزمہ کھینچا جاتا ہے توآپ ہی مطلقًا مفسد ہے اگر چہ مد ہی کی جگہ ہو،
|
فی الخانیۃ لوقرألقراٰن فی صلاۃ بالحان ان غیرالکلمۃ تفسد صلٰوتہ لما عرف فان کان ذلك فی حروف المد واللین وھی الیاء والالف والواو لایغیر المعنی الا اذا فحش [1]اھ فی ردالمحتار قولہ بالالحان ای بالنغمات وحاصلھا کما فی الفتح اشباع الحرکات لمراعات النغم[2]۔ |
خانیہ میں ہے اگر نماز میں الحان کے ساتھ قرآن پڑھا اگر کلمہ میں تبدیلی آگئی تونماز فاسد ہوجائے گی جیسا کہ معروف ہے پس اگر وہ الحان حروف مد اور لین میں ہو جو کہ یاء ،الف اور واؤ ہیں تو معنی میں تبدیلی نہیں ہوگی البتہ اس صورت میں آئےگی جب وہ حد سے متجاوز ہو اھ۔ ردالمحتار میں ہے قولہ بالالحانیعنی نغمہ کے ساتھ پڑھنا اوراس کا حاصل فتح کے مطابق نغمہ کی رعایت کی خاطر حرکات میں اشباع کرنا ہے۔(ت) |
(٤) کھڑے کو پڑا پڑھنا بھی مفسد نہیں:
|
فی القنیۃ قع حم قرأوتعال جدك بغیریاء لاتفسد وعن جار اﷲ مثلہ لان العرب یکتفی بالفتحۃ عن الالف اکتفاء ھم بالکسرۃ عن الیاء ولوقرأ اعذباﷲ لاتفسدصلاتہ ایضا لاکتفائھم بالضمۃ عن الواو٣[3]۔ عك وجار اﷲ والصلاوات لاتفسد وکذا لو قرأ وطور سنین بحذف الیاء |
قنیہ میں ہے قع حم کے ہاں اگر کسی نے تعالٰی جدك یائکے بغیرپڑھا تو نماز فاسد نہ ہو گی اور جاراﷲ سے بھی یہی منقول ہے کیونکہ اہلِ عرب الف کی جگہ فتحہ پر اکتفا کرلیتے ہیں جیسا کہ یاء کی جگہ کسرہ پر اکتفاء کرتے ہیں اور اگر اعوذ باﷲ کی جگہ اَعُذُ باﷲ پڑھا تو بھی نمازفاسدنہ ہوگی کیونکہ اہلِ عرب واو کی جگہ ضمہ پر اکتفاء کرلیتے ہیں۔(ت) عین الائمہ کرابیسی اور جار اﷲ زمخشری کے نزدیك اگر کسی نے والصلاوات پڑھا |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع