30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
علی من تعدی علی وظیفۃ امام راتب فصلی فیھا قھرا علی صاحبھا وعلی المامومین امکن ان یقال حینئذ ان ذلك کبیرۃ لان غصب المناصب اولی بالکبیرۃ من غصب الاموال المصرح فیہ بانہ کبیرۃ اھ [1] ملخصا۔واﷲ سبحٰنہ وتعالٰی اعلم۔ |
مقرر امام پر زیادتی کی اور اس پر مقتدیوں پر جبرًا اپنی امامت کو مسلط کیا تو اس وقت کہا جاسکتا ہے کہ یہ عمل کبیرہ گناہ ہے کیونکہ مناصب کا غصب کرنا بطریق اولٰی کبیرہ ہے اس غصب سے جو مال کہو جس کے کبیرہ ہو نے پر تصریح موجود ہے اھ ملخصًا(ت) |
مسئلہ نمبر ٥٨٩: ازکلکتہ دھرم تلا نمبر٦ مرسلہ جناب مرزا غلام قادر بیگ صاحب ٥ جمادی الآخری ١٣١٢ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ جوامام نماز پڑھانے پر نوکر ہے اس کی اقتداء کی جائے یا جماعت ترك کی جائے؟ بینواتوجروا
الجواب:
قطعًا اقتداء کی جائے اس عذر پر ترك جماعت ہرگز جائز نہیں، متقدمین کے نزدیك جو اُجرت لے کر امامت کرنے والے کے پیچھے نماز میں کراہت تھی اس بنا پر کہ اُن کے نزدیك امامت پر اُجرت لینا ناجائز تھا وہ بھی ایسی نہ تھی جس کے باعث ترك جماعت کا حکم دیا جائے ،اب کہ فتوٰی جواز اجرت پر ہے تو وہ کراہت بھی نہ رہی طحطاوی میں زیرِ قول درمختارتکرہ خلف من ام باجرۃ قھستانی(اس شخص کے پیچھے نماز مکروہ ہے جو اُجرت لے قہسانی۔ت) فرمایا:
|
ھذا مبنی علی بطلان الاستئجار علی الطاعات وھی طریقۃ المتقدمین والمفتی بہ جوازہ خوف تعطیل الشعائرحلبی وابومسعود٢[2]۔ |
یہ حکم اس پر مبنی ہے کہ عبادات پر اجرت لینا جائز نہیں (باطل ہے) اور یہ متقدمین کا طریقہ تھا اب مفتٰی بہ قول یہ رہے کہ اُجرت لینا جائز ہے ورنہ شعائر اسلامی کے معطل ہونے کا خوف ہےحلبی ومسعود (ت) |
اسی طرح ردالمحتار وغیرہا میں ہے واﷲ تعالٰی اعلم
مسئلہ نمبر ٥٩٠: ازمارہرہ مطہر ضلع ایٹہ مرسلہ سیّد ظہور حیدر میاں صاحب ١١جمادی الآخری ١٣١٢ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید کو بہت رکوع اور سورتیں یاد ہیں جن سے وہ نماز پڑھاتا
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع