30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
بتقدیمہ للامامۃ واذاتعذر منہ ینتقل عنہ الی غیر مسجدہ للجمعۃ وغیرھا[1]۔ |
مقدم کرکے اس کی تعظیم نہ کی جائے اور جب اسے امامت سے روکنا متعذر ہو تو جمعہ وغیرہ کے لئے آدمی کسی دوسری مسجد میں چلا جائے۔(ت) |
غنیہ میں ہے:
|
فی فتاوی الحجۃ اشارۃ الی انھم لوقدموا فاسقایا ثمون[2] اھ ملخصا۔ |
فتاوی الحجہ میں ہے اس سے اشارہ ہے کہ لوگوں نے فاسق کو امام بنایا تو تمام گنہ گار ہوں گے اھ ملخصًا(ت) |
ردالمحتار میں ہے:
|
بقی لوکان مقتدیابمن یکرہ الاقتداء بہ ثم شرع من لاکراھۃ فیہ ھل یقطع ویقتدی بہ استظھرط ان الاول لوفاسقالایقطع ولو مخالفا وشك فی مراعاتہ یقطع اقول والاظھر العکس لان الثانی کراھتہ تنزیھیۃ کالاعمی والاعرابی بخلاف الفاسق فانہ استظھر فی شرح المنیۃ انھا تحریمیۃ لقولھم ان فی تقدیمہ للامامۃ تعظیمہ وقد وجب علینا اھانتہ بل عند مالك و روایۃ عن احمد لاتصح الصلٰوۃ خلفہ[3] اھ قلت والحکم فیما نحن فیہ ابین واظھر علی کلا الاستظھارین کما لایخفی من حال ذلك الافسق الاطغی۔ |
باقی رہا یہ معاملہ کہ اگر کسی نے اقتداء کی اس شخص کی جس کی اقتداء مکروہ تھی پھر ایسے شخص نے نماز شروع کی جس میں کراہت نہ تھی تو کیا نماز قطع کردے اور دوسرے کی اقتداء کرے؟ ط نے اس کو ترجیح دی ہے کہ اگر اول فاسق ہو(یعنی مخالف نہ ہو) تو نماز قطع نہ کرے اوراگر وہ مُخالف ہو اور رعایتِ نماز میں شك ہو تو قطع کردے، میں کہتا ہوں مختاراس کا عکس ہے کیونکہ دوسری(یعنی مخالف کی) صورت میں کراہت تنزیہی ہے جیسا کہ نابینا اوراعرابی کی امامۃ میں ہے بخلاف فاسق کے کہ اس کے بارے میں شرح منیہ میں ہے کہ مختار یہی ہے کہ اس کی امامت مکروہ تحریمی ہے کیونکہ فقہا کہتے ہیں کہ اس کو امام بنانے کی بنا پر اس کی تعطیم ہوگی حالانکہ ہم پر اس کی اہانت لازم ہے بلکہ امام مالك رضی اﷲ تعالٰی عنہ کے نزدیك اورایك روایت کے مطابق امام احمد رضی اﷲ تعالٰی عنہ کے نزدیك فاسق کے پیچھے نماز جائز ہی نہیں اھ قلت (میں کہتا ہوں) جس کے بارے |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع