30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
وھو اعمی [1]۔ |
حالانکہ وہ نابینا تھے۔(ت) |
علماء فرماتے ہیں انھیں امام مقرر کرنے کی یہی وجہ ہے کہ حاضرین میں سب سے افضل یہی تھےبحرالرائق میں ہے:
|
قید کراھۃ امامۃ الاعمٰی فی المحیط وغیرہ بان لایکون افضل القوم فان کان افضلھم فھو اولی وعلی ھذا یحمل تقدیم ابن ام مکتوم لانہ لم یبق من الرجال الصالحین للامامۃ فی المدینۃ احد افضل منہ حینئذ ولعل عتبان بن مالك کان افضل من کان یؤمہ ایضًا اھ [2] قلت وقد سمعت انہ کان من الاصحاب البدریین رضی اﷲ تعالٰی عنھم اجمعین فان لم یکن فی من کان یؤمھم من شھد بدراکان افضلہم بالیقین۔ واﷲ سبحٰنہ تعالٰی اعلم۔ |
محیط وغیرہ میں امامتِ اعمٰی کے مکروہ ہونے کے لئے یہ قید لگائی گئی ہے کہ وہ اعمٰی اس قوم سے افضل نہ ہو، اگر وہ دوسروں سے افضل ہے تو وہی بہتر ہوگا،اورحضرت ابنِ مکتوم رضی اﷲ تعالٰی عنہ کی تقدیم کو بھی اسی بات پر محمول کیا جاتا ہے کہ اس وقت مدینہ منورہ میں ان سے بڑھ کر امامت کا اہل کوئی نہیں تھا ،ممکن ہے حضرت عتبان بن مالك رضی اﷲ تعالٰی عنہ بھی دوسرے لوگوں سے افضل ہوں۔ قلت (میں کہتا ہوں ) آپ نے سن لیا ہے کہ وہ اصحاب بد رضی اﷲ تعالٰی عنہم اجمعین میں سے تھے اگر ان کے مقتدیوں میں کوئی بھی اصحاب بدر میں سے نہ تھا تو وہ بالیقین ان سے افضل ہوئے(ت) |
مسئلہ نمبر ٥٨٥ ، ٥٨٨: از شاہجہانپور محلہ بابوزئی مرسلہ شاہ فخر عالم صاحب قادری ٢٢ربیع الآخر شریف ١٣١٢ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس باب میں کہ مسجد میں بحکم والی ملک(زید) جو حافظ قرآن و متشرع ہے قدیم سے خدمت ِ امامت بجالاتا ہے اور اس کی تنخواہ پاتا ہے لیکن بکر جو دوسرے سرشتہ کا ملازم ہے اور اس کے پاس باوجود یکہ کوئی حکم فسخ امامت کا زید کانہیں ہے اور نہ بکر کو حکم امامت کا والی ملك کے یہاں سے ملا اور عمومًا مقتدیان بکر کی امامت سے بوجوہاتِ ذیل نارضامند ہیں:
(١) یہ کہ بکر بعض اوقات رقصِ طوائف دیکھ لیتا ہے۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع