30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
یصلی بصلاتہ فیما ھو محجور فیہ عن التقدم علیہ والاستبداد دونہ وماھوحقیقۃ الا الواجبات الفعلیۃ اذ ھی موضوع الاقتداء اصالۃ کما نص علیہ فی الغنیۃ واشار الیہ فی المرقاۃ تحت قولہ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم انما جعل الامام لیؤتم بہ [1] ففیھا القدوۃ حقیقۃ ومنھا یسری الٰی غیرھا وان سری کوجوب ترك سنۃ یلزم من فعلھا مخالفۃ الامام فی واجب فعلی فلیس ذلك للمتابعۃ فی ترك السنۃ بل فی الواجب المذکور کعدم جوازان یاتی بسنن الرکوع قبل رکوع الامام فانہ لایفعلھا الا فی الرکوع ولارکوع لہ قبل رکوعہ فعن ھذا امتنع تقدیمھا علی رکوعہ لا علی فعلیۃ السنن کما علمت وھذا معنی قولنا لا خط لھا من المتابعۃ الابالتبع واذقد تبین ھذا وﷲ الحمد ظھر ان المقتدی یاتی بالسنن علی مذھب نفسہ دون مذہب الامام فان المستبدانما یعمل |
پر جاری ہوگی ،رہا یہ معاملہ کہ مقتدی نے امام کی نماز میں اقتدا کا التزام کیاتھا تو یہ ان امور میںہوگا جن میں امام پر تقدم منع ہے اور جن میں مقتدی امام کے بغیر مستقل حیثیت نہیں رکھتا اور وہ امور حقیقۃً واجبات ِفعلیہ ہی ہیں کیونکہ اصالۃً یہی موضوعِ اقتدا ہیں جیسا کہ اس پر غنیہ میں تصریح ہے۔مرقات میں حضور صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کے اس ارشاد گرامی"امام اس لئے بنایاجاتا ہے کہ اس کی اتباع کی جائے" کے تحت اسی طرف اشارہ کیا ہے تو ان واجبات میں اقتدا حقیقۃً ہے اور ان کے علاوہ میں ان کی وجہ سے ہے مثلًا اس سنّت کا ترك واجب ہوگا جس کو بجالانے سے واجب فعلی میں امام کی مخالفت لازم آئے تو یہ ترك سنّت میں متانعت کی بنا پر نہیں ہے بلکہ واجب مذکور میں مطابقت کی بنا پر نہیں ہے بلکہ واجب مذکور میں مطابقت کی بنا پر ہے جیسا کہ مقتدی سننِ رکوع کو امام کے رکوع سے پہلے بجا نہیں لا سکتا کیونکہ وہ انھیں رکوع کے علاوہ ادا نہیں کرسکتا،اور امام کے رکوع سے پہلے مقتدی کو رکوع کی اجازت نہیں ہے تو اس وجہ سے ان سنن کا امام کے رکوع سے پہلے بجالانا منع ہوگیا، نہ یہ کہ سنن کو بجالانا منع ہے جیسا کہ تُو جان چکا ہے ہمارے قول کہ "سنن میں اتباعِ امام تبعًا ہی ہے" کا معنی یہی ہے۔ الحمدﷲ جب یہ چیز واضح ہوگئی تو یہ بھی واضح ہوگیا کہ مقتدی سنن کی بجاآوری اپنے مذہب کے مطابق کرے گا نہ کہ |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع