30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
الیہ وان لم یکن فعلك متوقفا علی فعلہ ولا متقیدا بتقدمہ بل تفعلہ وان لم یفعل وتبادر الیہ وان لم یاخذفیہ بعد فماانت تابع لہ بل انت مستقل بنفسك غیرتابع ولامتابع وھذا ظاہر جدا واذ قد علمت ان اتیان الماموم بالسنن غیر متقید باتیان الامام بل یاتی بھا ان ترکھا کما اسمعناك علیہ نصوص الائمۃ، ومن لازم ذلك جواز التقدم علیہ مع الندب الیہ لجواز ان یرجع الامام بعد الترك الی الفعل کما اذا رکع فصوب راسہ وطبق اکفہ اوضم اصابعہ او بقی صامتا غیر مسبح والماموم قد فعل کل ذلك بطلب الشرع ثم عادالامام فسوی واخذ وخرج وسبح فقد تقدم فعل الماموم وھو فیہ غیر ملوم بل الیہ مندوب وہومنہ معتمد محسوب فقد ثبت ان لا مدخل للمتابعۃ فی السنن والمستحبات بل الماموم مستبد فیھا غیر داخل تحت حکم الامام ولم یتناولہ تحکیمہ ایاہ علی ذاتہ ، والتزامہ ان |
اور تیرا ایسا فعل جواس کے فعل پر موقوف نہ ہواور نہ ہی اس کے تقدم کے ساتھ مقید ہو بلکہ آپ اسے کرسکتے ہیں اگرچہ امام اسے نہ کرے،اسی طرح آپ اسکی طرف بڑھ سکتے ہیں اگرچہ امام ابھی تك اس میں شروع نہیں ہوا۔ تو آپ اس میں کسی معنی میں بھی تابع نہیں بلکہ آپ کی اس میں مستقل حیثیت ہے نہ کہ تابع اور متابع کی، اور یہ بات نہایت ہی ظاہر ہے اور جب آپ یہ جان چکے کہ مقتدی کا سنن پر عمل امام کے بجالانے کے ساتھ مقید نہیں بلکہ امام کے ترك کی صورت میں مقتدی انھیں بجالاسکتا ہے جیسا کہ ہم نے بہت سے ائمہ کے اقوال سے آپ پر واضح کیا ہے اس کا لازمی تقاضا یہ ہے کہ مقتدی کے لئے امام پر تقدم جائز جب مقتدی اس عمل کو مستحب بھی جانے کیونکہ ہوسکتا ہے کہ امام ترك کے بعد اسے بجالائے مثلًا امام نے رکوع میں سرپست کردیا ،اپنی دونوں ہتھیلیاں بند کرلیں، یا انگلیاں متصل رکھیں یا تسبیح کہے بغیر خاموش رہا حالانکہ مقتدی ان تمام کو بجالایا ،کیونکہ شرعًا یہ تمام مطلوب تھیں پھر امام لوٹا اور اس نے سر برابر کیا ، ہتھیلوں سے گھٹنے پکڑے ، انگلیوں میں انفصال کیا اورتسبیح کہی تو یہاں اگر چہ مقتدی نے پہلے عمل کیا لیکن یہ غیر مناسب نہیں لہذا اسے ملامت نہ جائے بلکہ یہ اس کے لئے مستحب ہے اور اس پر اسے ثواب ملے گا ،پس اس سے ثابت ہوگیا کہ سنن اورمستحبات میں متابعت کا کوئی دخل نہیں ،بلکہ مقتدی ان میں مستقل ہے اور وہ امام کے حکم کے تحت داخل نہیں اور نہ ہی اس کی تحکیم اس کی ذات، |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع