30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
تکبیرات فی صلٰوۃ الجنازۃ لایتابعہ لظھور خطیئہ بیقین لان ذلك کلہ منسوخ [1] اھ نقلہ فی عیدردالمحتار۔ |
یا تکبیرات ِ جنازہ پانچ کہتا ہے تو مقتدی اس کی اتباع نہ کرے کیونکہ اس کا غلطی پر ہونا یقینی ہے کیونکہ یہ تمام منسوخ ہیں اھ ردالمحتار کے باب العید میں اس کو نقل کیا ہے۔(ت) |
جلالی پھرشرح المقدمۃ الکیدانیۃ للقہستانی پھر جنائز حاشیہ شامی میں ہے:
|
لا تجوز المتابعۃ فی رفع الیدین فی تکبیرات الرکوع[2]۔ |
تکبیراتِ رکوع کے موقعہ پر امام کے رفع یدین کرنے کی اتباع جائز نہیں۔(ت) |
قومہ میں ہاتھ اٹھا کر دعا مانگنا شافعیہ کے نزدیك نمازِ فجر کی رکعت اخیرہ میں ہمیشہ وتر کی تیسریمیں صرف نصف اخیر شہرِ رمضان المبارك میں ہے کہ وہ ان میں دعائے قنوت پڑھتے ہیں ۔قنوت ِفجر تو ہمارے ائمہ کے نزدیك منسوخ یابدعت ، بہرحال یقینا نامشروع ہے۔لہذا اس میں پیروی ممنوع ،اور جب اصل قنوت میں متابعت نہیں تو ہاتھ اٹھانے میں کہ اس کی فرع ہے اتباع کے کوئی معنی نہیں مگر اصل قومہ رکوع فی نفسہ مشروع ہے لہذا وُہ جب تك نمازِفجر میں قنوت پڑھے مقتدی ہاتھ چھوڑے چُپکا کھڑا رہے۔درمختار میں ہے :
|
یاتی الماموم بقنوت الوتر ولوبشافعی یقنت بعد الرکوع لانہ مجتھد فیہ لا الفجر لا نہ منسوخ بل یقف ساکتا علی الاظھر مرسلا یدیہ [3]۔
|
مقتدی وتروں میں دعائے قنوت پڑھے اگر چہ اس نے ایسے شافعی المذہب امام کی اقتدا میں نماز شروع کی جو رکوع کے بعد قنوت پڑھنے والا ہو کیونکہ یہ معاملہ اجتہادی ہے البتہ فجر میں قنوت نہ پڑھے کیونکہ وہ منسوخ ہے،بلکہ وہ مقتدی مختار قول کے مطابق ہاتھ چھوڑے خاموش کھڑا رہے۔(ت) |
علامہ شرنبلالی نورالایضاح میں فرماتے ہیں :
|
اذا اقتدی بمن یقنت فی الفجر قام معہ فی قنوتہ ساکتا علی الاظہر |
اگر کسی نے ایسے امام کی اقتدا کی جو فجر میں قنوت پڑھتا ہے تو مختار قول کے مطابق اس کے ساتھ خاموش |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع