30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
مسئلہ نمبر ٥٨٠ : از بدایوں مروہی محلہ مرسلہ شیخ محمد حسین صاحب ٩ جمادی الاخری ١٣١١ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین ا س مسئلہ میں کہ جو شخص حنفی ہو کر مسح میں امام شافعیرحمہ اﷲ تعالٰی کا طریقہ عمل میں لائے یعنی چند بال چُھو لےنے پر اکتفا کرے اُس وقت میں کہ پگڑی باندھے ہو تو اُس کی نماز اور اس کے پیچھے نماز کیسی ہے؟
الجواب:
صورت متفسرہ میں اگر یہ شخص واقعی شافعی ہوتا تاہم حنفیہ کی نماز اُس کے پیچھے محض باطل تھی نہ کہ ایسے آزاد لوگ کہ کن ہی میں نہیں،
|
فی الھندیۃ الاقتداء بشافعی المذھب انما یصح اذاکان الامام یتحامی مواضع الخلاف بیان یسمح ربع راسہ ھکذا فی النھایۃ والکفایۃ ولا یتوضا بالماء القلیل الذی وقعت فیہ الجناسۃ کذا فی فتاوٰی قاضی خان ولا بالماء المستعمل ھکذا فی السراجیۃ اھ ملخصا[1]۔ |
ہندیہ میں ہے شافعی المذہب امام کی اقتدا تب جائز ہے کہ وہ مواضع خلاف سے بچنے والا ہو مثلًا چوھائی سر کا مسح کرے ،اسی طرح نہایہ اورکفایہ میں ہے ،اور اس قلیل پانی سے وضو بھی نہ کرتا ہو جس میں نجاست واقع ہوئی ہے، فتاوٰی قاضی خان میں اسی طرح ہے، اور نہ ماءِ مستعمل سے وضو کرتا ہو سراجیہ میں یہی ہے اھ تلخیصًا(ت) |
اورا س کی اپنی نماز بھی ہمارے ائمہ کرام رضی اﷲ تعالٰی عنہم کے طور پر تو ظاہر کہ محض باطل ہے اور ہم بلاشبہ یہی حکم دیں گے،
|
فانا انما نفتی بمذھبنا وان کان مذہب غیرنا ماکان کمانص علیہ فی اخلاصۃ والاشباہ وفی الدر المختار وردالمحتار وغیرھا من الاسفار۔ |
ہم تو اپنے مذہب کے مطابق ہی فتوی دیں گے اگر چہ غیر کا مذہب جیسا بھی ہو ،یہی تصریحخلاصہ ،اشباہ ، درمختار اور ردالمحتار وغیرہ معتبر کتب میں ہے۔(ت) |
مگر یہاں اور مذاہب پر بھی خیر نہیں سیّدنا امام مالك رضی اﷲ تعالٰی عنہ تو ہماری ہی طرح باطل ہی فرمائیں گے کہ ان کے یہاں پُورے سر کا مسح فرض ہے، یونہی سیّدنا امام احمد رضی اﷲ تعالٰی عنہ کوان سے بھی اظہر الروایات فرضیت استعیاب ہے۔کما نقلہ الامام المولی الاجل القطب سیدی عبدالوھاب
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع