30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
اسی طرح جامع الرموز ومجمع الانہر وحاشیہ طحطاویہ علی مراقی الفلاح وغیرہ میں ہے والتفصیل فی رسالتنا المذکورۃ (اس کی تفصیل ہمارے مذکورہ رسالے میں ہے۔ت) واﷲ الموافق سبحٰنہ وتعالٰی اعلم۔
جواب سوال دوم: صورت مسؤلہ میں اسے امام ہونا حلال نہیں، جو اسے امام بنائے گا گناہگار ہوگا۔حضور پُر نور سیّد عالم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
|
ثلثۃ لا یقبل اﷲ منھم صلوۃ من تقدم قوما وھم لہ کارھون [1]۔ رواہ ابوداؤد وابن ماجۃ عن ابن عمر وابن خزیمۃ عن انس والترمذی وحسنہ عن ابی امامۃ وابن ماجۃ وابن حبان ابن عباس وفی الباب عن طلحۃ التیمی رضی اﷲ تعالٰی عنھم عندالطبرانی فی الکبیر۔
|
تین شخصوں کی نماز اﷲ تعالٰی قبول نہیں فرماتا ایك وہ جو کسی قوم کی امامت کرے اور وہ اسے ناپسند رکھتے ہوں۔اس کوابو داؤداورابن ماجہ نے حضرت ابن عمر رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے،ابن خزیمہ نے حضرت انس رضی اﷲ تعالٰی عنہ اورترمذی نے اسے حضرت ابوامامہ رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے روایت کر کے حسن کہا ہے۔ابن ماجہ اور ابن حبان نے حضرت ابن عباس رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے روایت کیا ہے ،اور اس مسئلہ میں طبرانی نے کبیر میں حضرت طلحہ التیمی رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے بھی روایت کیا ہے۔(ت) |
درمختارمیں ہے :
|
لو ام قوماوھم لہ کارھون ان الکرھۃ لفساد فیہ اولانھم احق بالامامۃ منہ کرہ لہ ذلك تحریما [2]۔ |
اگر کسی نے کسی قوم کی امامت کی حالانکہ وہ قوم اسے ناپسند کرتی ہو خود اس میں فساد کی وجہ سے کراہت ہو یا اس لئے کہ دیگر لوگ فاسق سے زیادہ امامت کے اہل تھے اس صورت میں فاسق کا امام بننا مکروہِ تحریمی ہے۔(ت) |
واﷲ تعالٰی اعلم وعلمہ جل مجدھ اتم واحکم۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع