30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
مسئلہ نمبر ٥٧٨ ، ٥٧٩: از علی گڑھ کارخانہ مہر مرسلہ حافظ عبداﷲ صاحب ٹھیکیدار ٦جمادی الاولی ١٣١١ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ کوئی مولوی مقلدین حنفیہ کو ذریۃً الشیطان اور کتاب و سنّت کا منکر لکھے اور غیر مقلدی کی اشاعت میں ہمہ تن مصروف ہو اور مسائل خلافیہ مقلدین کا سخت مخالف اور غیر مقلدین کا حامی اور معاون ہو اور مسائل حنفیہ کو مثلًا آمین بالخفا کو اپنی تحریرات میں خرافات لکھے اور بعض اوقات کسی مصلحت دنیوی سے اپنے آپ کو حنفی المذہب ظاہر کرے ایسے شخص کی اقتداء اور اس کے پیچھے نماز پڑھنا جائز ہے یا نہیں؟ اور ایسے شخص کو حنفی کہا جائے گا یا نہیں؟
دومؔ جس امام ِ شہر سے شہر کے مسلمان بوجہ شرعی ناراض ہوں اور اسکے پیچھے نماز نہ پڑھیں تو اس حالت میں اُس کا امام ہونا جائز ہے یا نہیں؟ بینوا توجروا۔
الجواب :
اللھم انا نعوذ بك من الشیطٰن الرجیم
جو ذریۃ الشیطان کتاب و سنّت کا منکر حنفیہ کرام خصہم اﷲ تعالٰی باللطف والاکرام کا نام رکھتا ہے پر ظاہر کہ وُہ گمراہ خود کا ہے کو حنفی ہونے لگا اگر چہ کسی مصلحت دنیوی سے براہ تقیہ شنیعہ اپنے آپ کو حنفی المذہب کہے کہ اُس کے افعال و اقوال مذکورہ سوال اُس کی صریح تکذیب پر دال ،منافقین بھی تو زبان سے کہتے تھے : نَشْہَدُ اِنَّکَ لَرَسُوۡلُ اللہِ ۘ[1] ۔ہم گواہی دیتے ہیں کہ حضور اﷲ کے رسول ہیں۔مگر ان ملاعنہ کے گفتار و کردار اس جُھوٹے اقرار کے بالکل خلاف تھے، قرآن عظیم نے اُن کے اقرار کو ان کے منہ پر مارا:
|
وَ اللہُ یَعْلَمُ اِنَّکَ لَرَسُوۡلُہٗ ؕ وَ اللہُ یَشْہَدُ اِنَّ الْمُنٰفِقِیۡنَ لَکٰذِبُوۡنَ ۚ﴿۱﴾ [2]۔ |
اﷲ خوب جانتا ہے کہ تم بیشك اس کے رسول اور اﷲ گواہی دیتا ہے کہ مبافق جھُوٹے ہیں۔ |
ایسے شخص کی اقتداء اور اُسے امام بنانا ہرگز روا نہیں کہ وہ مبتدع گمراہ بد مذہب ہے اور بد مذہب کی شرعًا توہین واجب اورامام کرنے میں عظیم تعظیم تو اُس سے احتراز لازم ۔علامہ طحطاوی حاشیہ دُرمختار میں نقل فرماتے ہیں:
|
من شذعن جمھود اھل الفقہ والعلم والسواد الاعظم فقد شذفیما یدخلہ فی |
یعنی جو شخص جمہور اہل علم وفقہ سوادِ اعظم سے جُدا ہوجائے وُہ ایسی چیز میں تنہا ہُوا جو اُسے دوزخ میں لے جائے گی۔ |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع