30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
عند ربّی۔ |
حق کا علم میرے رب کے پاس ہے (ت) |
فقیر غفراﷲ لہ نے سہولت حفظ کے لئے اس مطلب کو چار شعر میں نظم کیا اور ذکر اعضاء میں ترتیب بھی وہی ملحو ظ رہی۔ ان اشعار میں مرد کے لئے سترِعورت کی حدیں بھی بتائی گئیں وہ بھی اس تصریح سے کہ نا ف خارج اور زانو داخل اور وہ مقدار بھی بتا دی گئی جس قدر کا کھلنا مذہب مختار پر مفسد ہے پھر یہ تفرقہ بھی کہ بالقصد کھولنے میں فورًا نماز فاسد ہوگی اور بلا قصد میں مقدار ادائے رکن تك کھلنا چاہئے اس میں یہ بھی بتا دیا گیا کہ مذہب مختار پر حقیقۃً ادائے رکن شرط نہیں پھر اس مذہب صحیح کی طرف ایما ہے کہ ذکر و اُنثیین و دُبر و ہر سرین تنہا تنہا عضو کامل ہیں اور یہ مذہب صحیح بھی ظاہر کر دیا گیا کہ ہر گُھٹنا اپنی ران کا تابع ہے، اور جو عضو فقیر نے زائد کیا اُس میں یہ اشارہ بھی کردیا کہ اس جزئیہ کی تصریح نہ پائی اور عورت زیرِ نا ف میں یہ بھی مصرح ہوگیا کہ سب جوانب بدن سے مراد ہے اور نیز یہ بھی کہ عانہ اس میں داخل ہے ولہٰذا اسے بھی لفظ ظاہرًا کے نیچے رکھا۔بحمداﷲ مختصر بحر کی چار بیتوں میں اس قدر فوائد کثیرہ کے ساتھ لطف یہ ہے کہ بعنایت الہٰی کوئی حرف حشو و مصرع پر کن نہیں نہ کہیں ادائے مطلب میں ایجاز مخل واقع ہوا والحمدﷲ رب العٰلمین وہ اشعار آبداریہ ہیں: ؎
سترِ عورت
بمرد نہ عضو ست از تہِ ناف تا تہِ زانو
ہرچہ ربعش بقدر رکن کشود یا کشو دے دمے نماز مجو
ذَکر وانثیین و حلقہ بس دوسریں ہرفخذ
بزانوئے او
ظاہرًا فصل ا ُنثیین و دُبر باقی زیرِ ناف از ہر
سُو
گویا یہ سارا فتوٰی ان چار شعر کی شرح ہے۔واﷲ سبحٰنہ وتعالٰی اعلم۔
مسئلہ نمبر ٣٩١ : مسئو لہ مرزا باقی بیگ صاحب رامپوری ٢٨ ذیقعد ١٣١٢ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ عورت آزاد کے بدن کے عضوِ عورت ہیں؟ بینوا توجروا۔
الجواب:
زنِ آزاد کا سارا بدن سر سے پاؤں تك سب عورت ہے مگر منہ کی ٹِکلی اور دونوں ہتھیلیاں کہ یہ بالاجماع اور عبارت خلاصہ سے مستفاد کہ ناخن پا سے ٹخنوں کے نیچے جوڑ تك پشتِ قدم بھی بالاتفاق عورت نہیں ، تلووں اور پشت کف دست میں اختلاف تصحیح ہے اصل مذہب یہ کہ وہ دونوں بھی عورت ہیں تو اس تقدیر پر صرف پانچ ٹکڑے مستثنٰی ہوئے، منہ کی ٹکلی ، دونوں ہتھیلیاں ، دونوں پشتِ پا ۔ ان کے سوا سارا بدن عورت ہے اور وہ تیس٣٠ عضووں پر مشتمل کہ اُن میں جس عضو کی چوتھائی کھلے گی نماز کا وہی حکم ہوگا جو ہم نے پہلے فتوے میں
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع