30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
ولذا قلنالیس لمن صلی علیھا ان یعید مع الولی لان تکرارھا غیر مشروع وان صلی من لہ حق التقدم او من لیس لہ حق التقدم وتابعہ الولی لایعیدوان صلی الولی بحق بان لم یحضر من یقدم علیہ لایصلی غیرہ بعدہ [1]اھ ملخصا۔ |
اپنے حق کی وجہ سے ہے نہ کہ اسقاطِ فرض کے لئے ۔اسی وجہ سے ہم کہتے ہیں کہ جس نے پہلے جنازہ پڑھ لیا ہو وہ ولی کے ساتھ اعادہ نہ کرے کیونکہ جنازہ کا تکرار مشروع نہیں۔ اگر جنازہ کسی ایسے شخص نے پڑھا یا جس کو ولی پر حق تقدم تھا(مثلًا قاضی یا نائب یا امام مسجد) یا اس شخص نے پڑھا دیا جس کوولی پر حق تقد م نہ تھا مگر ولی نے شرکت کرلی تو پھر جنازہ کا اعادہ نہیں کیاجاسکتا اور اگر ولی نے اپنے استحقاق کے بموجب جنازہ پڑھایا بایں طور پر وہاں اور کوئی صاحب حق تقدم نہیں تھا تو اس کے بعد کوئی دوبارہ جنازہ نہیں پڑھ سکتا اھ ملخصًا(ت) |
اور پانچ تکبیریں تو ہمارے ائمہ بلکہ ائمہ اربعہ بلکہ جمہور ائمہ کے نزدیك منسوخ ہیں بلکہ امام ابو عمر یوسف بن عبدالبرمالکی نے فرمایا چار پر اجماع منعقد ہوگیا و لہذا ہمارے علماء کرام حکم فرماتے ہیں کہ امام پانچویں تکبیر کہے تو مقتدی ہر گز ساتھ نہ دیں خاموش کھڑے رہیں ، یہی صحیح ہے، اور بعض روایات میں تو یہاں تك ہے کہ وہ تکبیر پنجم کہے تو یہ سلام پھیر دیں کہ اتباع منسوخ کا رد خوب واضح ہوجائے۔
|
فی الدرالمختار لو کبرامام خامسالم یتبع لانہ منسوخ فیمکث المؤتم حتی یسلم معہ اذاسلم بہ یفتی۔[2] |
درمختار میں ہے اگر مقتدی کے امام نے پانچویں تکبیر کہی تو وُہ امام کی اتباع نہ کرے کیونکہ یہ منسوخ ہے پس مقتدی ٹھہرا رہے اور امام کے ساتھ سلام پھیرے، اسی پر فتوٰی ہے۔(ت) |
ردالمحتار میں ہے :
|
وروی عن الامام انہ یسلم للحال ولا ینتظر تحقیقا للمخالفہ٣[3]ط۔ |
امام اعظم سے یہ بھی مروی ہے کہ مقتدی فی الفور سلام کہہ دے امام کا انتظار نہکرے تاکہ کُھلی مخالفت ہوجائے ط(ت) |
زید کہ یہ حرکت بھی وہی جہل و جرأت ہے یا غیر مقلدی کی آفت و علت ۔بہر حال اس کے اقوال مذکورہ سوال
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع