30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
النار[1]۔ رواہ الترمذی وصححہ عن ابن عباس رضی اﷲ تعالٰی عنہما۔ |
جہنّم میں بنالے۔اسے ترمذی نے حضرت عبداﷲ بن عباس رضی اﷲ تعالٰی عنہما سے روایت کرکے صحیح قرار دیا ۔ |
خامسًا ،سادسًا،سابعًا: بے سمجھے بُوجھے مسائل شرعیہ میں مداخلت کرنا غلط سلط جو منہ پر آیا فرض کو سنّت، واجب کو مستحب، ناجائز کو جائزبتا دینا بھی گناہ عظیم ہے۔ حدیث شریف میں ہے حضور سیّد عالم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں :
|
اجرؤکم علی الفتیا اجرؤکم علی النار ٢[2]۔اخرجہ الدارمی عن عبیداﷲ بن ابی جعفر مرسلا۔ |
جو تم میں فتوی پر زیادہ بیباك ہے آتش دوزخ پر زیادہ جری ہے اس کو دارمی نے عبیداﷲ بن ابی جعفر سے مرسلًا ذکر کیا ہے۔ |
ثامنًا تا سعًا عاشرًاکتابوں کے جُھوٹے حوالے دینا کذب و افتراء اور وہ بھی علماء پر اور وہ بھی امورِ دین میں، یہ سب سخت گناہ ہیں ،مسائل میں علماء پرا فتراء ،شرع پر افتراء اور شرع پر افتراء خدا پر افتراء ۔
|
قال اﷲ تعالٰی وَ لَا تَقُوۡلُوۡا لِمَا تَصِفُ اَلْسِنَتُکُمُ الْکَذِبَ ہٰذَا حَلٰلٌ وَّ ہٰذَا حَرَامٌ لِّتَفْتَرُوۡا عَلَی اللہِ الْکَذِبَ ؕ اِنَّ الَّذِیۡنَ یَفْتَرُوۡنَ عَلَی اللہِ الْکَذِبَ لَا یُفْلِحُوۡنَ ﴿۱۱۶﴾[3]۔ |
ارشاد ربّانی ہے اورنہ کہو اسے جو تمھاری زبانیں جھوٹ بیان کرتی ہیں یہ حلال ہے اور یہ حرام ہے کہ اﷲ تعالٰی پر جھوٹ باندھو ،بے شك جو اﷲ تعالٰی پر جھوٹ باندھتے ہیں ان کا بھلا نہ ہوگا۔(ت) |
اور جنازہ کی جب ایك بار ہوچکی تو ہمارے علمائے کرام کے نزدیك اس کا اعادہ جائز نہیں مگر یہ کہ صاحبِ حق یعنی ولی میّت کے بے اذن دیئے عام لوگوں سے کسی نے پڑھا دی اور ولی شریك نہ ہُوا تو اُسے اعادہ کا اختیار ہے پھر بھی جو پہلے پڑھ چکے اب نہ ملیں کہ اس کی تکرار مشروع نہیں۔
|
فی الدرالمختار فان صلی غیرالولی ممن لیس لہ حق التقدم علی الولی ولم یتابعہ الولی اعاد ولو علی قبرہ ان شاء لاجل حقہ لالاسقاط الفرض |
درمختار میں ہے اگر نمازِ جنازہ ولی کے علاوہ کسی ایسے شخص نے پڑھا دی جس کو ولی پر مقدم ہونے کا حق نہ تھا اور ولی نے اس کی متابعت نہ کی تو ولی اگر چاہے تو قبر پر بھی اعادہ کرسکتا ہے یہ اعادہ اس کے |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع