30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
ثا نیًا و ثالثًا:مسئلہ مسجد میں خدا ورسول پر دو٢ افترااور کئے ،ایك یہ کہ اس مسجد میں نماز حرام ، دوسرا یہ کہ وہ آدمی سنگسار کیاجائے۔ پہلے افترا سے وہ اُن لوگوں میں داخل ہوا جنہیں قرآن عظیم نے فرمایا:
|
وَمَنْ اَظْلَمُ مِمَّنۡ مَّنَعَ مَسٰجِدَ اللہِ اَنۡ یُّذْکَرَ فِیۡہَا اسْمُہٗ وَسَعٰی فِیۡ خَرَابِہَاؕ[1]۔ |
اُس سے بڑھ کر ظالم کون جو خدا کی مسجدوں کو ان میں یاد الہی ہونے سے روکے اور ان کی ویرانی میں کوشش کرے۔(ت) |
اور دوسرے سے وہ بے گناہ مسلم کے ناحق قتل کا فتوی دینے والا ہوا،علماء صاف اجازت دیتے ہیں کہ حاجت کے وقت غیر اوقات نماز میں حفاظت کے لئے دروازہ مسجد بند کرنا جائز ہے۔
|
کرہ خلق الباب المسجد الالخوف علی متاعہ بہ یفتی [2]درمختار۔ھذا ھوالصحیح [3]تبیین الحقائق والمسألۃ فی الفتح والبحر والنھر و غیرھا عامۃ کتب المذہب۔ |
مسجد کے سامان کوچوری سے محفوظ کرنے کے لئے مسجد کو بند رکھنا جائز ہے ورنہ بلا ضرورت مسجد کو بند رکھنا مکروہ ہے۔ اسی پر فتوٰی ہے۔درمختار(ت)یہی صحیح ہے، تبیین الحقائق۔ اور یہ مسئلہ فتح ،بحر ،نہر اور دیگر مشہور کتب میں یونہی مذکور ہے۔(ت) |
ہاں بے حاجت یا غیر وقت حاجت خصوصًا اوقات ِ نماز میں بند کرنا ممنوع اور بند کرنےوالا گناہگار مگر نہ ایسا کہ سنگسار کرنے کے قابل،اور یہ سخت جہالتِ فاحشہ دیکھئے کہ اُس مسجد میں نماز حرام ۔سبحٰن اﷲ! اُس نے تو ایك آدھ وقت دروازہ بند کیا یہ ہمیشہ کو تیغا کٹے دیتا ہے وہ سنگسار کرنے کے قابل ہوا یہ کس سزا کے لائق ہوگا۔
رابعًا: بے علم ترجمہ قرآن مجید میں دخل دینا گناہ کبیرہ ہے، خودقرآن مجید فرماتا ہے:
|
اَمْ تَقُوۡلُوۡنَ عَلَی اللہِ مَا لَا تَعْلَمُوۡنَ﴿۸۰﴾[4]۔ |
یا تم اﷲ کے بارے میں وہ بات کہتے ہو جو تم نہیں جانتے۔(ت) |
حدیث میں ہے سید عالم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
|
من قال فی القراٰن بغیر علم فلیتبوأ مقعدہ من |
جو بغیر علم کے قرآن میں زبان کھولے وہ اپنا گھر |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع