30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
اور جب تك نہ نہاوے موردِ لعنت ہے اور کہے کہ جوشخص دروازہ مسجد کو بحفاظتِ مسجد بعد نمازِ عشاء مقفل کرے اُس مسجد میں نماز قطعی حرام ہے وُہ آدمی سنگسار کیا جائے اوربغیر علم احادیث و تفسیر ترجمہ قرآن مجید کرے اور فرض کو سنّت اور واجب کو مستحب بیان کرکے جُھوٹے حوالے کتاب کے دے اور بعد ہونے نماز جنازہ بارہ دوم تکبیر پانچ منسوخہ سے نماز جنازہ پڑھاوے اور بلا وقفیت مسائل وارکان نماز پیش امامی کرے نماز اسکے پیچھے جائز ہے یا نہیں؟ اور جائز کو ناجائز کے کہے اُس کے حق میںاور اُس کے ممدومعاون کے حق میں شرعًا کیا حکم ہے؟احکموا ﷲ بحوالۃ الکتاب (اﷲ تعالٰی کا حکم بیان کرو حوالہ کتاب کے ساتھ۔ت)
الجواب:
زید جاہل ، سخت جری،بیباك ہے۔
اوّلًا: اس کاعلی الاطلاق کہنا کہ جو اپنی بی بی سے قربت کرے جب تك نہ نہائے معاذ اﷲ موردِ لعنت ہے شریعتِ مطہرہ پر سخت افترائے ناپاك ہے حکم صرف اس قدر ہے کہ مھما امکن(جتنا جلدی ممکن ہو۔ت) نہانے میں تعجیل مندوب ومحبوب ہے اگر نہ نہائے تو وضو کررکھے کہ جہاں جنب ہوتا ہے وہاں فرشتے آنے سے احتراز کرتے ہیں مگر غسل میں تعجیل نہ کرنے والامعاذاﷲ موردِ لعنت ہونا درکنار سرے سے گناہگار بھی نہیں جب تك تاخیر باعثِ فوتِ نماز یا دخول وقت کراہت تحریمی نہ ہو، خود صاحب شرع صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے تعلیمِ جواز کے لئے بعض اوقات بلکہ خاص شبہائے ماہِ مبارك رمضان میں صبح تك تاخیرِ غسل فرمائی ہے کہ حضور پُرنور صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کے اس فعل سے امّت کو دو٢ مسئلہ تخفیف ورحمت معلوم ہوں ایك یہی غسل میں تعجیل گو بہتر ہے پر واجب نہیں،نماز تك تاخیر کا اختیار رکھتا ہے دُوسرے یہ کہ بحالت ِجنابت صبح کرنے سے روزے میں کوئی خلل یا نقص نہیں آتا۔احمدوبخاری ومسلم وام المومنین صدیقہ و ام المومنین ام سلمہ رضی اﷲ تعالٰی عنہا سے راوی:
|
ان النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کان یصبح جنبا من جماع ثم یغتسل ویصوم زادفی زاویۃ فی رمضا ن [1]۔ |
نبی اکرم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم (بعض اوقات) جماع کی وجہ سے جنبی حالت میں صبح کرتے پھر غسل کرتے اور روزہ رکھتے تھے، ایك روایت میں رمضان کا بھی اضافہ ہے۔(ت) |
[1] صحیح بخاری باب الصائم یصبح جنبا مطبوعہ قدیمی کتب خانہ کراچی ١/٢٥٨،صحیح مسلم باب صحۃ صوم من طلع علیہ الفجر مطبوعہ قدیمی کتب خانہ کراچی ١/٣٥٤،مسند احمد بن حنبل مروی عن عائشہ رضی اﷲ تعالٰی عنہا مطبوعہ دارالفکر بیروت ٢/٣١٣
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع