30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
معلنا۔ |
وہ فاسق ملعن ہو۔(ت) |
اور نمازِ جنازہ میں اسے امام کرنا اور بھی زیادہ معیوب کہ یہ نماز بغرض دُعا و شفاعت ہے اور فاسق کو شفاعت کے لئے مقدم کرناحماقت ،تاہم اگر پڑھا ئے گا تو جوازِ نماز وسقوط فرض میں کلام نہیں کما لا یخفی(جیسا کہ مخفی نہیں ہے ۔ ت) واﷲ تعالٰی اعلم بالصواب ۔
مسئلہ نمبر ٥٧٣: ٢٧ربیع الاول شریف ١٣٠٩ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ جس نے امام کے ساتھ کچھ رکعتیں نہ پائیں بعد سلام امام وُہ اپنی رکعات باقیہ ادا کرتا ہے اس صورت میں کسی نے اس کی اقتدا کی تو اس اقتدا کرنے والے کی نماز صحیح ہوگی یا نہیں؟ بینوا تو جروا
الجواب:
نہ۔فی تنویرالابصار المسبوق منفرد فیما یقضیہ الافی اربع لایجوز الاقتداء بہ [1](تنویر الابصار میں ہے مسبوق منفرد ہے اس نماز میں کہ قضا کرتا ہے یعنی وہ نماز جو امام کے ساتھ نہیں ملی اس کے پڑھنے میں منفردہے مگر چار مسئلوں میں کہ وہ مثل مقتدی کے اوّل مسئلہ یہ ہے کہ اس کی اقتداء جائز نہیں (ت)واﷲ تعالٰی اعلم
مسئلہ نمبر٥٧٤: یکم جمادی الاخری ١٣٠٩ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ سُود خور کے پیچھے نماز کا کیا حکم ہے؟ اور اسے امام مقرر کرنا چاہئے یا نہیں ؟ بینواتوجروا
الجواب :
سود خور فاسق ہے اور فاسق کے پیچھے نماز ناقص و مکروہ اگر پڑھ لی تو پھیری جائے اگر چہ مدت گزر چکی ہو، ولہذا اسے ہر گزامام نہ کیا جائے جہاں امامت کرتا ہو بشرط قدرت معزول کرکے امام متقی صحیح العقیدہ صحیح القرأۃ مقرر کریں،اگر قدرت نہ پائیں تو جمعہ کے لئے دوسری مسجد میں جائیں یونہی پنجگانہ میں خواہ اپنی دوسری جماعت یہیں کرلیں ۔ صغیری میں :یکرہ تقدیم الفاسق کراھۃ تحریم[2] (فاسق کی تقدیم (یعنی امامت) مکروہ تحریمی ہے۔ت)مراقی الفلاح میں ہے :
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع