30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
قال الامام الاستروشنی فی کتاب احکام الصغار الصبی اذاغسل المیت جاز[1] اھ ای یسقط بہ الوجوب فسقوط الوجوب بصلاتہ علی المیت اولی لانھا دعاء وھواقرب للاجابۃ من المکلفین۔ |
امام استروشنی نے کتاب الاحکام الصغار میں تصریح کی ہے کہ بچّہ اگر کسی میت کو غسل دے تو جائز اھ یعنی اس سے وجوب ساقط ہوجائے گا لہذا میّت پر بچّے کی نمازسے وجوب نماز بطریقِ اولٰی ساقط ہوجائے گا کیونکہ نمازِ جنازہ دُعا ہے اور بالغ لوگوں کی بنسبت بچّے کی دُعا جلدی قبول ہوتی ہے۔(ت) |
اُسی میں ہے:
|
نقل الاحکام عن جامع الفتاوٰی ،سقوطہا بفعلہ کردالسلام [2] اھ وتمام تحقیقہ فیہ من الامامۃ ومن الجنائز۔ |
لیکن احکام میں جامع الفتاوٰی سے منقول ہے کہ بچّے کے نماز جنازہ پڑھانے سے اس کا سقوط ہوجاتا ہے جیسا کہ بچّہ اگراسلام کا جواب دے تو اس کے سلام کا جواب دینا درست ہے اھ اور اس بارے میں تمام تحقیق باب الاما مۃ اورباب الجنائز میں ہے۔(ت) |
اور اگر بالغ ہے تو ہر نماز یہاں تك کہ فرائض پنجگانہ بھی اس کے پیچھے ہو توجائیں گے کہ داڑھی مونچھ شرط صحتِ امامت نہیں بلوغ درکار ہے اور وہ ظہور آثار مثل احتلام وغیرہ سے لڑکوں میں بارہ١٢ برس کی عمر سے ممکن لیکن جبکہ وُہ تارك الصلٰو ۃ اور بلا تاویل تارك جمعہ ہے اور بے عذر صحیح ترك مسجد اور ہنود کے میلوں میں جانے اوراپنی عورات کو لےجانے کا عادی ہے تو بوجوہ کثیر فاسق ہے کہ ان میں ہر امر فسق کے لئے کافی ، تو اس کے پیچھے نمازمکروہ ہے کہ پڑھی جائے تو شرعًا اس کا اعادہ مطلوب ۔
|
لما صرحوبہ من کراھۃ الصلٰوۃ خلف الفاسق وان کل صلٰوۃ ادیت مع کراھۃ فانھا تعاد وجوبا لو تحریمۃ وندبا لوتنزیھۃ وقداختارالمحقق الحلبی کراھۃ التحریم فی الفاسق وھو قضیۃ الدلیل لاسیما اذکان |
جیسا کہ فقہا نے اس بات کی تصریح کی ہے کہ فاسق کے پیچھے نماز مکروہ ہے،اور ہر وُہ نمازجو کراہت کے ساتھ ادا کی جائے تو مکروہ تحریمی کی صورت میں اس کالوٹانا واجب اور تنزیہی کی صورت میں لوٹانا مستحب ہے اور محقق حلبی نے اقتداءِ فاسق کے مکروہ تحریمی ہونے کو مختار قرار دیا ہے اوریہی دلیل کا تقاضا ہے خصوصًا جبکہ |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع