30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
حلیہ میں ہے:
|
غلطوہ بان ھذا تغلیظ یؤدی الی التخفیف اوالاقساط لان من الغلیظۃ مالیس باکثر من قدرالدرھم فیؤدی الی ان کشف جمیعہ لا یمنع و قد اجیب عنہ بانہ قد قیل بان الغلیظۃ القبل والدبر مع حولھما فیجوز کونہ اعتبر ذلك فلا یرد علیہ ما قالوا ویدفعہ ما تقدم من ان الصحیح ان کلامن الذکر والخصیتین عضو مستقل وکذالك الصحیح ان کلا من الالیتین والدبر عضو مستقل فلا یتم ذالك الاعتبار[1] اھ مختصرا۔ |
انہوں نے غلط کہا ہے کہ یہ تغلیظ تخفیف یا اسقاط کا سبب ہے کیونکہ بعض عورت غلیظہ ایسی ہیں جو قدر درہم سے زیادہ نہیں تواس سے لازم آتا ہے کہ ایسے عضو کا تمام کا تمام ننگا ہونا نماز سے مانع نہ ہوگا، اس کا جواب یہ دیا گیا کہ ایك قول یہ ہے کہ قُبل ،دُبر اور ان دونوں کا ارد گرد (سب مل کر ) غلیظہ ہے ، پس امام کرخی کے قول قدر درھم کا اعتبار درست ہوگا اور فقہاء نے جو اعتراض کیا ہے وہ وارد نہ ہو گا۔ اس کا دفاع گزشتہ گفتگو سے ہو جاتا ہے کہ صحیح قول یہی ہے کہ ذکر (عضو مخصوص) اور خصیتین میں سے ہر ایك مستقل عضو ہے اور اسی طرح صحیح قول کے مطابق دبر اور سرین میں سے ہر ایك مستقل عضو ہے اب وہ( قدر درہم کا) اعتبار درست نہ ہوگا اھ مختصرًا(ت) |
اسی طرح تبیین وغیرہ میں تصریح فرمائی، فقیر غفراﷲلہ نے اپنے رسالہ مذکورہ میں اس بحث کی بحمداﷲ تنقیح بالغ بمالا مزید علیہ ذکر کی اور اُس میں ثابت کردیا کہ افاضل ثلثہ قدست اسرار ہم کا ذکر و دُبر اُنثیین کے ساتھ لفظ حول زائد کرنا بیکار بلکہ موہم واقع ہوا جب ثابت ہولیا کہ یہ جسم یعنی مابین الدبرو الاُنثیین اُن آٹھوں عورتوں سے کسی میں شامل اور کسی کا تابع نہیں ہوسکتا اور وہ بھی قطعًا سترِ عورت میں داخل تو واجب کہ اُسے عضو جداگانہ شمار کیا جائے۔ مرد میں عدداعضائے عورت نو٩ قرار دیا جائے اور کتب مذکورہ میں اُس کا عدم ذکر ذکرِ عدم نہیں کہ آخر اُن میں نہ استیعاب کی طرف ایماء نہ کسی تعداد کا ذکر ، وہ ستر عورت کی دونوں حدیں ذکر فرماچکے اور اتنے اعضا کے استقلال و انفراد پر بھی تصریحیں کر گئے تو جو باقی رہا لاجرم عضو مستقل قرار پائے گا،
|
فلیفھم ولیتامل لعل اﷲ یحدث بعد ذلك امرا ھذا ماعندی والعلم بالحق |
عند ربّی۔ سمجھو اور غور کرو شاید اﷲ تعالٰی اس کے بعد کسی آسان امر کو پیدا فرما دے، یہ میری تحقیق ہے اور |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع