30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
دوسری حدیث میں ہے :
|
من زارقوما فلا یؤمھم ولیؤ مھم رجل منھم [1]رواہ احمد و ابوداؤد والترمذی والنسائی عن مالك ابن الحویرث رضی اﷲ تعالٰی عنہ۔ |
جو شخص کسی قوم کا مہمان ہے وہ ان کی امامت نہ کروائے بلکہ اُس قوم میں سے کوئی شخص ان کا امام بنے۔ اس کو احمد،ابوداؤد، ترمذی اورنسائی نے حضرت مالك بن حویرث رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے روایت کیا ہے۔(ت) |
درمختار میں ہے :
|
صاحب البیت ومثلہ امام المسجد الراتب اولی بالا مامۃ من غیرہ مطلقا[2]الخ |
صاحب خانہ اور مقرر امام مسجد کا امامت کروانا دوسرے لوگوں سے مطلقًا بہتر ہے الخ(ت) |
ردالمحتار میں ہے :
|
ای وان کان غیرہ من الحاضرین من ھو اعلم واقرأمنہ [3]۔ |
یعنی اگر چہ حاضرین میں سے کوئی شخص اس گھر والے یا مقرر کردہ امام مسجد سے زیادہ عالم اور قاری ہو۔(ت) |
پس صورت متفسرہ میں اگر اس امام قدیم میں اس قسم کا کوئی خلل نہ تھا تو بلاشبہ باوصف اُس کی ممانعت کے اس مسافر کا امام بننا ناحق اسکے حق میں دست اندازی کرنا ہوا اور یہ خود اور وہ چند آدمی جنہوں نے ایسی حالت میں اسے امام بنایا مبتلائے کراہت و مخالف حکم شریعت ہُوئے۔واﷲ سبحنہ وتعالٰی اعلم
مسئلہ نمبر ٥٧٢: از سیتا پور محلہ تامس گنج مرسلہ حضور نور العارفین صاحب دام ظلہم المعین ١٩ربیع الاول شریف ١٣٠٩ہجری
بخدمت علمائے متبحرین ملتمس ہُوں مثلًا کوئی لڑکا عمر اس کی تیرہ ١٣یا چودہ١٤ برس کی ہے اور وہ قرآ ن شریف پڑھا ہے لیکن کبھی نماز نہیں پڑھتا اور باوجود ہونے متصل مسجد مکان کے بیٹھا رہتا ہے اور نماز جمعہ کی قصدًا نہیں پڑھتا اور نابالغ ہے اور اپنے گھر کی عورت کو لے کر میلہ ہنود میں جیسے کہ میلہ کُنبھ اور میلہ ردنا وغیرہ میں جاتا ہے
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع