30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
وابن ماجۃ عن عبداﷲ ابن عمر رضی اﷲ تعالٰی عنہ وفی الباب عن ابن عباس وعن عمرو ابن حارث وعن جنادۃ ابن امیۃ وعن ابی امامۃ الباھلی رضی اﷲ تعالٰی عنھم۔ |
ہوں ۔اس کو ابوداؤد اورابن ماجہ نے حضرت عبداﷲ بن عمر رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے روایت کیا ہے۔اور اس بارے میں حضرت ابن عباس ، حضرت عمروبن حارث ،حضرت جنادہ بن امیہ اور حضرت ابو امامہ باہلی رضی اﷲ تعالٰی عنہم سے بھی حدیث مروی ہے۔ |
دوسری حدیث میں ہے :
|
من ام قوما وفیھم اقرأ لکتاب اﷲ منہ و اعلم ،لم یزل فی سفال الی یوم القیامۃ ١[1]۔اخرجہ العقیلی عن ابن عمر رضی اﷲ تعالٰی عنہ ۔واﷲ تعالٰی اعلم۔ |
جو کسی قوم کی امامت کرے اور اُن میں وہ شخص موجود ہو جو اس سے زیادہ قارئ قرآن و ذی علم ہے وہ قیامت تك پستی و خواری میں رہے گا۔اس کو عقیلی نے ابن عمر رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے نقل کیا ہے۔ |
مسئلہ ٥٧١: ١٢ ربیع الاوّل شریف ١٣١٩ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید ایك مسجد میں ہمیشہ سے امامت کے واسطے معین ہے اور ایك شخص اس سے افضل کسی شہر سے آیا چند آدمیوں نے چاہا کہ یہ شخص فاضل ہے اس وقت کی نماز یہی پڑھائے ، امام قدیم سے پُوچھا کہ آپ کی اجازت ہے یا نہیں؟ اس نے انکار کیا، مگر چند آدمیوں نے اس مسافر کو کھڑا کردیا یہ لوگ اور مسافر امام قدیم کے مؤاخذہ دار ہوئے یا نہیں۔بینوا تو جروا
الجواب:
اگر امام قدیم مثل غلط خوانی قرآن بحد افساد نماز بد مذہبی مثل وہابیت و غیر مقلدی یا فسق ظاہر مانند شراب نوشی و زنا کاری کوئی خلل ایسا نہ ہو جس کے باعث اُسے امام بنانا شرعًا ممنوع ہو تو اس مسجد کی امامت اُسی کا حق ہوتی ہے اس کے ہوتے دوسرے کو اگرچہ اُس سے زیادہ علم و فضل رکھتا ہو بے اس کی اجازت کے امام بننا بنانا شرعًا نا پسندیدہ و خلا ف حکمِ حدیث وفقہ ہے،حضوت پُر نور سیّد عالم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں :
|
لا یؤمن الرجل فی سلطانہ [2] رواہ احمد ومسلم عن ابی مسعود رضی اﷲ تعالٰی عنہ۔ |
امام مسجد کی موجودگی میں کوئی دوسراشخص امامت نہ کرائے ۔اس حدیث کو امام احمد اورامام مسلم نے حضرت ابو مسعود رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے روایت کیا ہے۔(ت) |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع