30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
درمختار میں ہے :
|
لو ام قوماوھم لہ کارھون ان الکراھۃ لفساد فیہ اولانھم احق بالامامۃ منہ کرہ لہ ذلك تحریما١[1]الخ |
اگرکوئی کسی قوم کا امام بنا حالانکہ وہ لوگ اس کو برا جانتے ہیں تو اگران کی نفرت امام کے اندر کسی خرابی کی وجہ سے ہے یا اس وجہ سے کہ وہ لوگ بنسبت امام مذکور کے امامت کے زیادہ مستحق ہیں تو اس شخص کو امام ہونا مکروہِ تحریمی ہے الخ۔(ت) |
پس شخص مذکور ہر گز امامت نہ کرے بلکہ جو سنّی صحیح العقیدہ غیرفاسق کہ حروف بقدر صحت نماز ٹھیك ادا کرتا اور وہاں کے نمازیوں میں سب سے زیادہ مسائلِ نماز کا علم رکھتا ہو اسی کوامام کیا جائے کہ حق صاحبِ حق کو پہنچے اور مقتدیوں کی نماز بھی خوبی و خوش اسلوبی پائے ۔حدیث شریف میں ہے :
|
ان سرکم ان تقبل صلٰوتکم فلیؤمکم علماؤکم٢[2] رواہ الطبرانی فی الکبیر عن مرثد الغنوی رضی اﷲ تعالٰی عنہ وفی الباب عن ابی عمر وعن ابی امامۃ الباھلی رضی اﷲ تعالٰی عنہ۔ |
اگر تمھیں اپنی نماز مقبول ہونا منظور ہے تو چاہئے کہ تمھارے علماء تمھاری امامت کریں۔ اس کوطبرانی نے المعجم الکبیر میںحضرت مرثد غنوی رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے روایت کیا ہے اور اس مسئلہ کے بارے میں حضرت ابو عمرو اورحضرت ابو امامہ الباہلی رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے بھی حدیث بیان کی گئی ہے۔ |
کیا یہ شخص جس کے جہل کے باعث اکثر نمازی اس کی امامت سے ناراض ہین اُن سخت وعیدوں سے خوف نہیں کرتا جو ایسے امام کے حق میں آئیں ۔حضور پُر نورسید عالم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
|
ثلثۃ لایقبل اﷲ منھم صلٰوۃ من تقدم قوماوھم لہ کارھون ۔[3] اخرجہ ابوداؤد |
تین اشخاص ہین جن کی نماز اﷲ تعالٰی قبول نہیں فرماتا ایك وہ جو لوگوں کی امامت کرے اور وہ اسے ناپسند رکھتے |
[1] درمختار باب الامامۃ مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی ١/٨٣
[2] مجمع الزوائد باب الامامۃ مطبوعہ دارالکتاب بیروت ٢/٦٤،المعجم الکبیر مااسند مرثد لغنوی مطبوعہ المکتبۃ الفیصلیۃ بیروت ٣/٣٢٨
نوٹ: المعجم الکبیر میں فلیؤمکم علماءکم کی جگہ فلیومکم خیارکم ہے اور مجمع الزوائد فلیومکم علماءکم ہے اس لئے مجمع الزوائد سے حوالہ نقل کیا ہے (نزیر احمد سعید)
[3] سنن ابی داؤد باب الرجل یؤم القوم ھم لہ کارھون مطبوعہ آفتاب عالم پریس لاہور ١/٨٨
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع