30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
بغیر طھارۃ فھو کالمبتدع تکرہ امامتہ بکل حال [1] الخ واﷲ تعالٰی اعلم۔ |
صاحبِ علم ہو تو یہ علت زائل نہیں ہوجاتی کیونکہ ممکن ہے وہ بغیر طہارت کے ہی نماز پڑھا دے بہر حال وہ بدعتی کی طرح ہے۔جس کی امامت ہر حال میں مکروہ ہے الخ واﷲ تعالٰی اعلم(ت) |
مسئلہ نمبر ٥٦٩: ازچھاؤنی کامٹی ضلع ناگپور مرسلہ حافظ محمد یقین الدین صاحب رضوی ١٩ شعبان ١٣٠٧ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ جن مسجدوں میں کئی درجے ہوں اور ہردرجہ سہ درجہ پنج درجہ امام کو اُن کی ہر محراب ودر میں کھڑا ہونا مکروہ ہے یا صرف اندرونی محرابوں یا وسطانی دروں میں۔بینوا توجروا
الجواب:
محرابیں وہی ہیں جووسط میں قیامِ امام کی علامت کے لئے بنائی جاتی ہیں باقی جو فرجے دو٢ ستونوں کے درمیان ہوتے ہیں درہیں اور امام کو بلاضرورت تنگی مسجد ،ہر محراب د درمیں کھڑا ہونا مکروہ ہے، پھر اطراف کے دروں میں قیام نافیِ کراہت نہیں بلکہ بسااوقت اور کراہتوں کا باعث ہوگا کہ امام راتب کو محراب چھوڑ کر ادھر اُدھر کھڑاہونا مکروہ ہے اور اگر مسجد کی صف پوری ہوئی تو اس صورت میں امام وسط صف کے محاذی نہ ہوگا یہ ہر امام کے لئے مکروہ ہے اگر چہ غیر راتب ہو،تنویر الابصار میں ہے:کرہ قیام الامام فی المحراب مطلقا[2]اھ مخلصا(امام کا محراب میں کھڑا ہونا مطلقًا مکروہ ہے اھ تلخیصًا۔ت) بحر الرائق میں ہے:مقتصی ظاہرالروایۃ الکراھۃ مطلقا[3] (ظاہر الروایۃکا تقاضایہی ہے کہ یہ مطلقًا مکروہ ہے ۔ت) ردالمحتار میں ہے :
|
فی معراج الدریۃ من باب الامامۃ الاصح ماروی ان یقوم بین الساریتین او زاویۃ اوناحیۃ المسجد او الی ساریۃ لانہ بخلاف عمل الامۃ اھ وفیہ ایضا السنۃ ان یقوم الامام ازاء وسط الصف الا تری ان المحاریب |
معراج الدرایہ کے باب الامامت میں ہے کہ امام صاحب سے جو کچھ مروی ہے اس میں اصح یہ ہے کہ امام کا دو ٢ ستونوں کے درمیان یامسجد کے کسی گوشے میں یا مسجد کی کسی ایك جانب یا کسی ستون کی طرف کھڑا ہونا مکروہ ہے کیونکہ یہ امّت کے عمل کے خلاف ہے۔اھ اور اس میں یہ بھی ہے کہ امام کا وسطِ صف میں کھڑا ہونا سنّت ہے کیا آپ نہیں دیکھتے کہ محراب مساجد کے درمیان میں |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع