30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
اندھا ہو کہ زیادتِ علم کے باعث کراہت نابینائی زائل ہوجاتی ہے، ہاں فاسق وبدمذہب کی امامت بہر حال مکروہ اگرچہ سب حاضرین سے زیادہ علم رکھتے ہوں ۔یوں ہی حرف ایسے غلط ادا کئے کہ نماز گئی تو امامت جائز ہی نہیں اگر چہ عالم ہی ہو ۔درمختار میں ہے:
|
الاحق بالامامۃ الاعلم باحکام الصلٰوۃ فقط صحۃ وفسادا بشرط اجتنابہ للفواحش الظاہرۃ [1] اھ ملخصا |
امامتِ نماز کے زیادہ لائق وہ شخص ہے جو فقط احکامِ نمازمثلًا صحت وفساد نماز سے متعلق مسائل سے زیادہ آگاہ ہو بشرطیکہ وُہ ظاہری گناہوں سے بچنے والا ہو اھ تلخیصًا(ت) |
کافی میں ہے:
|
الاعلم باسنۃ اولی الا ان انیطعن علیہ فی دینہ[2]۔ |
جو شخص سنّت سے زیادہ واقف ہو وہ امامت کے لئے سب سے بہتر ہوتا ہے، مگر اس صورت میں نہیں جب اس کے دین پر اعتراض ہو۔(ت) |
بحرالرائق میں ہے :
|
قید کراھۃ امامۃ الاعمی فی المحیط وغیرہ بان لایکون افضل القوم فان کان افضلھم فھو اولی[3]۔ |
محیط وغیرہ میں تصحیح امامت اعمی کی کراہت اس بات سے مقید کی ہے کہ جب وہ قوم سے افضل نہ ہو، اگر وہ افضل ہو تو اس کا امام بننا بہتر ہے (ت) |
ردالمحتار میں ہے :
|
اما الفاسق فقد عللوا کراھۃ تقدیمہ بانہ لایھتم لامردینہ ،وبان فی تقدیمہ للامامۃ تعظیمہ وقد وجب علیھم اھانتہ شرعا ولا یخفی انہ اذاکان اعلم من غیرہ لاتزول العلۃ فانہ لایؤمن ان یصلی بھم |
فاسق کی امامت کے مکروہ ہونے کی فقہاء نے یہ علّت بیان کی ہے کہ وہ اپنے دین کی تعظیم و اہتمام نہیں کرتا اور یہ بیان کیا گیا ہے کہ امامت کے لئے اس کی تقدیم میں تعظیم ہوگی حالانکہ شرعًا لوگوں پر اسکی اہانت کا حکم ہے۔ واضح رہے کہ جب فاسق دوسروں سے زیادہ |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع