30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
دُرمختار میں ہے :
|
کبر بالحذف اذمد احدالمھزتین مفسدو تعمدہ کفر وکذا الباء فی الاصح[1]۔ |
شروع میں اﷲ اکبر کہے ہمزوں کوحذف کرنےکے ساتھ(یعنی بڑھا کر لمبا کر کے نہ پڑھے) کیونکہ دونوں ہمزوں میں سے کسی ایك کو لمبا کرنا نماز کو فاسد کردیتا ہے اوراگر عمدًا لمبا کرتا ہے تو کفر ہے، اوراصح قول کے مطابق اکبر میں باء کو کرنا بھی مفسد نماز ہے۔(ت) |
ردالمحتارمیں ہے:
|
المد فی اﷲ فان کان فی اولہ لم یصربہ شارعاوافسد الصلٰوۃ لوفی اثنائھا وان فی وسطہ کرہ وفی اخرہ فھوخطأ ولا یفسد ایضا والمد فی اکبر فی اولہ مفسد فی وسطہ افسد وقال الصدر الشھید یصح وفی اٰخر قد قیل یفسد کذا فی الحلیہ ملخصا اقول وینبغی الفساد بمدالھاء لانہ یصیر جمع لاہ کما صرح بہ بعض الشافیعۃ تامل[2]اھ مافی ردالمحتار ملخصا۔ ورأیتنی کتبت علی قولہ قد قیل یفسد مانصہ: اقول:لایظہر الفراق بین |
لفظ اﷲ میں مد کا معاملہ یُوں ہے کہ اگر اول میں ہو تو اس سے نماز شروع کرنے والانہ ہوگا اور و ہ نماز کو فاسد کردے گااگر ایسا دورانِ نماز ہو، اور اگر مد لفظ اﷲ کے درمیان میں ہو تو مکروہ ہے اور لفظ اﷲ کے آخر میں ہو تو و ہ خطا ہے اورنماز کو بھی فاسد نہیں کرتا ، اگر مدلفظِ اکبر میں ہو اگر مدابتداء میں ہوتو نماز فاسد،اور اگر وسط میں ہو تو وہ نماز کو فاسد کردے گا۔اور صدر الشہید کہتے ہیں کہ نماز صحیح ہوگی اگر مد آخر میں ہو تو کہا گیا ہے کہ نماز فاسد کردے گا کذافی الحلیۃ تلخیصًا ،میں کہتا ہوں ہاء کی مد سے بھی فسادِ نماز ہونا چاہئے کیونکہ ا س صورت میں وہ لاہ کی جمع ہوجاتا ہے جیسے کہ اس پر بعض شوافع نے تصریح کی ہے اچھی طرح غور کرو اھ یہ ردالمحتار کی عبارت کا خلاصہ ہے مجھے یاد آرہا ہے کہ میں نے اس کی عبارت قد قیل یفسدپر یہ حاشیہ لکھا ہے الفاظ یہ ہیں: اقول: (میں کہتا ہوں ) اکبر کی راء کی |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع