30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
جامع الرموزمیں ہے :
|
لا خلاف ان دارالحرب یصیر دارالاسلام باجراء بعض احکام الاسلام فیھا واما صیر ورتھا دارالحرب نعوذ باﷲ منہ فعندہ بشروط احدھا اجراء احکام الکفر اشتھارا بان یحکم الحاکم بحکمھم ولا یرجعون الی قضاۃ المسلمین کمافی الخیرۃ والثانی الاتصال بدار الحرب والثالث زوال الامان الاول وقال شیخ الاسلام والامام الاسبیجابی ان الدار محکومۃ بدارالاسلام ببقاء حکم واحد فیھا کما فی العمادی وغیرہ[1]۔ |
اس میں کوئی اختلاف نہیں کہ بعض احکامِ اسلامی کے اجراء سے دارالحرب دارالاسلام بن جاتا ہے لیکن دارالاسلام کا نعوذباﷲ دارالحرب بننے کے لئے امام صاحب کے ہاں کچھ شرائط ہیں، ان میںسے ایك یہ ہے کہ احکامِ کفر اعلانیہ جاری ہوں مثلًا حاکم کفر کے مطابق فیصلہ کرے اور لوگ مسلمان قاضیوں سے رجوع نہ کرسکیں جیسا کہ خیرۃ میںہے ، دوسری یہ کہ وہ جگہ دارالحرب کے ساتھ متصل ہو، تیسری یہ کہ پہلی امان ختم ہوجائے ،شیخ الاسلام اورامام اسبیحابی کہتے ہیں اگر وہاں ایك حکم بھی اسلام کا باقی ہے تو اسے دارالاسلام ہی کہا جائے گاجیسا کہ عمادی وغیرہ میں ہے۔(ت) |
طحطاوی علی الدر میں ہے:
|
ذکرالاستروشنی فی فصولہ عن ابی الیسر ان دارالاسلام لا تصیردارالحرب مالم یبطل جمیع مابہ صارت دارالاسلام ،ذکرہ فی احکام المرتدین وذکر الاسبیجابی فی مبسوطہ ان دارالاسلام محکوم بکونہا دارالاسلام فیبقی ھذاالحکم ببقاء حکم واحد فیھا ولا تصیر دارحرب الا بعد زوال القرائن ودارالحرب تصیر دارالاسلام بزوال بعض القرائن وھو ان |
شیخ استروشنی نے اپنی فصول میں شیخ ابوالیسر سے بیان کیاہے کہ دا رالاسلام اس وقت تك دارالحرب نہیں بن سکتا جب تك وہ تمام احکام باطل نہ ہوجائیں جن کی وجہ سے وُہ دارالاسلام بنا تھا اس کو احکامِ مرتدین میں ذکر کیا ہے۔اوراسبیجابی نے اپنی مبسوط میں ذکر کیا ہے کہ دارالاسلام اس وقت تك دارالاسلا م ہی رہے گاجب تك اس میں کوئی ایك حکمِ اسلام موجود ہو اور تمام قرائن اور شعائر کے زوال کے بعد ہی دارالحرب بنے گا لیکن دارالحرب بعض قرائن کے زوال سے دارالاسلام بن جاتا ہے وہ اس طرح کہ |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع