30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
ما اذا تعددت فی المصر الواحد وجھل اسبق او علمت المعیۃ علی القول بعدم جواز التعدد وھی واقعۃ اھل مَرَؤ فیفعل ما فعلوہ قال المحسن امرتھم باداء الاربع بعد الجمعۃ حتما احتیاطا[1]۔ |
بھی ہے کہ ایك شہر میں متعدد مقامات پر جمعہ ہوتا ہے اور سب سے پہلے ہونے والے سے آگاہی نہیں یا معیت کا علم ہے لیکن اس قول پر ہے جس میں متعدد مقامات پر جمعہ جائزنہیں اور اہل مرو کا معاملہ اسی طرح کاہے پس آدمی انہی کی طرح کرے۔محسن نے فرمایا کہ ایسی صورت میں جمعہ کے بعد چار رکعت کی ادائیگی انکے لئے احتیاطًا ضروری ہے۔ (ت) |
غنیہ میں ہے :
|
امامن حیث جواز التعدد وعدمہ فالاول ھو الاحتیاظ لان فیہ قوی اذا الجمعۃ جامعۃ للجماعات ولم تکن فی زمن السلف تصلی الافی موضع واحد من المصر وکون الصحیح جوازالتعدد للضرورۃ للفتوی لایمنع شرعیۃ الاحتیاط للتقوی٢[2]۔ |
رہا مسئلہ جواز تعداد اور عدم جواز تعدد کا تو پہلے قول میں احتیاط ہے کہ اس میں قوّت ہے کیونکہ جمعہ نام ہے تمام جماعتوں کے جمع کرنے کا ،اور زمانہ اسلاف میں شہر میں فقط ایك ہی جگہ جمعہ ادا کیا جاتا رہا ہے ضرورت کے لئے متعدد جگہ جمعہ کے جواز پر فتوی کا صحیح ہونا اس بات سے مانع نہیں کہ تقوٰی کے پیش نظر شرعًا احتیاطًا چار رکعت کا ادا کرنا جائز نہ ہو۔(ت) |
منحۃ الخالق میں ہے :
|
ھو مبنی علی ان ذلك الاحتیاط ای الخروج عن العھدۃ بیقین لتصریحہ بان العلۃ اختلاف العلماء فی جوازھا اذاتعددت وفیہ شبہۃ قویۃ٣[3]۔
|
وہ اسی احتیاط پر مبنی ہے یعنی آدمی کے ذمے سے فریضہ بالیقین ساقط ہوجائے کیونکہ ان کی تصریح ہے کہ اس کی علت متعدد مقامات پر جوازِ جمعہ میں علماء کا اختلاف ہے اور اس میں اشتباہ قوی ہے۔(ت) |
ظاہرًا عیدین کی نماز مذہبِ امام شافعی میں سرے سے واجب ہی نہیں نہ شہر نہ گاؤں میں اگرچہ
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع