30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
فی المذہب کافی ومحیط وعالمگیریہ میں ہے:
|
فی کل موضع وقع الشك فی جواز الجمعۃ لوقوع الشك فی المصر وغیرہ واقام اھلہ الجمعۃ ینبغی ان یصلوا بعد الجمعۃ اربع رکعات الخ [1]۔ |
ہر و مقام جہاں شہر وغیرہ کسی شرط کے ہونے میں شك کی بناء پر جوازِ جمعہ میں شك ہوا ور وہاں کے لوگ نمازِ جمعہ پڑھتے ہوں تو وہاں کے لوگوں کو چاہئے کہ وُہ جمعہ کے بعد چار رکعت (بنیّتِ ظہر) ادا کریں الخ(ت) |
فتح القدیر و بحرالرائق میں ہے :
|
قد وقع شك فی بعض قری مصر ممالیس فیھا وال وقاض نازلان بھابل لھا قاضی یسمی قاضی الناحیۃ وھو قاض یولی الکورۃ باصلہا فیاتی القریۃ احیانا فیفصل ما اجتمع فیھا من التعلقات وینصرف ووال کذلك ھل ھومصر نظراالی ان لہا والیا وقاضیا اولا نظرا الی عدمھما بھاواذااشتبہ علی الانسان ذلك ینبغی ان یصلی اربعا بعد الجمعۃ ٢[2] الخ۔ |
شك واقع ہوا ہے مصر کے بعض علاقوں میں جہاں والی اور قاضی مستقل نہیں بلکہ ان کے لئے ایك عارضی قاضی ہو جسے"قاضی ناحیہ"کہا جاتا ہے یعنی وہ بالاصل ضلع کا قاضی ہے جو اس قریہ میں کبھی کبھی آتا ہے اور جمع شدہ معاملات کے فیصلے کرکے واپس چلا جاتا ہے اسی طرح کا والی ہے کیا انھیں شہر کہاجائے گا؟اس بنا پر کہ انکا والی اور قاضی ہے یا شہر نہیں کہا جائیگا؟ اس بنا پرکہ وہ دونوں یہاں رہتے نہیں لہذا جب اس طرح کا کسی انسان پر اشتباہ پیدا ہوجائے تواسے وہاں جمعہ کے روز چار رکعت (بنیت ظہر) ادا کرنی چاہئیں الخ(ت) |
شہر میں متعدد جمعے ہوں اور سابق نامعلوم تو اس میں احتیاطی رکعات کا حکم جنہوں نے دیا وہ بھی مجرد رعایت خلاف کے لئے نہیں کہ ایك امرمستحب ہے بلکہ شدّت قوت خلاف کے باعث جس کے سبب براء ۃ عہدہ بالیقین نہیں ان کے نزدیك یہاں احتیاط اسی معنی پر ہے۔حلیہ میں ہے:
|
قد یقع الشك فی صحۃ الجمعۃ بسبب فقد شروطھا ومن ذلک |
بعض اوقات شرائطِ جمعہ نہ پائے جانے کی وجہ سے صحتِ جمعہ میں شك واقع ہوجاتا ہے ان میں یہ صورت |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع