30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
اھلہ وزیادۃ[1]۔ |
نہ ہو ،یہ درست نہیں کیونکہ مکہ اور مدینہ دونوں کی مساجد وہاں کے لوگوں اور مزید دوسرے لوگوں کے لئے کافی ہیں(ت) |
اسے ابن شجاع ثلجی نے امام ابو یوسف رضی اﷲ تعالٰی عنہ ہی سے روایت کیا ،ہدایہ میں تعریف ظاہر الراویۃ بیان کرکے فرمایا:
|
ھذا عند ابی یوسف رحمہ اﷲ تعالٰی وعنہ انھم اذا اجتمعوا فی اکبر مساجد ھم لم یسعھم والاول اختیار الکرخی وھو الظاہر والثانی اختیار الثلجی٢[2]۔ |
یہ امام ابو یوسف رحمہ اﷲ تعالٰی کے نزدیك ہے اور انہی سے مروی ہے کہ جب وہاں کے وہ لوگ جن پر جمعہ فرض ہے سب سے بڑی مسجد میں جمع ہوں تو وہ مسجد ناکافی ہو، پہلے قول کو امام کرخی نے پسند فرمایااور یہی ظاہر ہے اور دوسرے امام ثلجی نے پسند فرمایا ۔(ت) |
خود امام ابو یوسف رحمۃ اﷲ تعالٰی علیہ کے الفاظ کہ امام ملك العلماء نے بدائع پھر امام ابن امیر الحاج نےحلیہ میں ذکر کئے یہ ہیں کہ فرمایا:
|
اذااجتمع فی قریۃ منلایسمعھم مسجد واحد بنیلھم جامعا ونصب لھم من یصلی بھم الجمعۃ ٣[3]۔ |
جب کسی قریہ کے لوگ ایك مسجد میں جمع ہوں اور وہ مسجد انکے لئے ناکافی ہو تو ان کے لئے جامع مسجد بنائی جائے اور وہاں کوئی ایسا شخص مقرر کیاجائے جو انھیں جمعہ پڑھائے۔(ت) |
بد یہی ہے کہ بنی او نصبکی ضمیریںسلطانِ اسلام کی طرف ہیں اور اسی پر وُہ حدیث ناطق جس سے طبقۃً فطبقۃً ہمارے ائمہ و علماء اسی باب شرائط جمعہ میں استدلال فرماتےرہے کہ لہ امام عادل او جائر(اس کے لئے امام عادل یا ظالم ہو۔ت) مبسوط امام سرخسی میں ہے:
|
لنا ماروینا من حدیث جابر رضی اﷲ تعالٰی عنہ ولہ امام جائر ا وعادل فقد شرط رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم |
ہماری دلیل وہ روایت ہے جوحضرت جابر رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے مروی ہے کہ اس کے لئے امام ظالم یا عادل کا ہونا ضروری ہے تو نبی اکرم صلی اﷲ تعالٰی |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع